خطبات محمود (جلد 34) — Page 352
1953ء 352 خطبات محمود اس وقت ہمارے مشن زیادہ تر افریقن اور ایشیائی ممالک میں ہیں۔ کچھ مشن یورپین اور امریکن ممالک میں بھی ہیں۔ ہم نے ان مشنوں کی تعداد کو بڑھانا ہے۔ اور انہیں اس قدر مضبوط کرنا ہے کہ ہم اسلام کو پھیلا سکیں ۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو جو بیج ہم نے پھینکا ہے وہ بھی رائیگاں جائے گا۔ تم جانتے ہو کہ جب تم کسی کھیت میں گندم بوتے ہو تو پھر اُس کی نگہداشت کرتے ہو، اُسے وقت پر پانی دیتے ہو۔ تب جا کر تم اس کھیت سے فصل حاصل کرتے ہو۔ لیکن اگر تم ایک ایکٹر میں میں پچپیں سیر دانے پھینک دو اور پھر اس میں ایک لوٹا پانی کا گرادو ۔ تو تمہارے ہیں پچیس سیر دا نے جو تم نے بیج کے طور پر پھینکے تھے وہ بھی ضائع ہو جائیں گے اور کسی فصل کی بھی تم امید نہیں کر سکو گے ۔ اس طرح اگر ہم نے تبلیغ کے اخراجات کو نہ بڑھایا تو موجودہ دو سو مبلغ بھی ضائع ہو جائیں گے ۔ اگر ان مبلغین کے لیے سامان بہم پہنچائے گئے تو ظاہر ہے کہ موجودہ حالت میں تو ہم ان کے لیے خوراک بھی مہیا نہیں کرتے۔ پس چاہیے کہ جماعت قربانی کے لیے تیار ہو جائے ۔ ہر احمدی فرد ہر سیکرٹری اور پریزیڈنٹ اور ہر بارسوخ آدمی کا فرض ہے کہ وہ جماعت کے تمام افراد میں تحریک کر کے اُن سے تحریک جدید کے وعدے لے، ان وعدوں کی اطلاع مرکز کو دے اور پھر ان کی وصولی کے لیے پوری کوشش کرے ۔ دور اول سے دور دوم کی طرف آنے کی وجہ سے تحریک جدید کو نقصان نہ پہنچے بلکہ وہ پہلے سے بھی زیادہ ترقی کر جائے ۔“ المصلح 13 روسيه )13 1953ء 1: وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ ( آل عمران : 105) 2 وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا الْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ( البقرة: 171) أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ (البقرة: (171)