خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 25

1953ء 25 خطبات محمود وعدے شاید گزشتہ انیس سال کے عرصہ میں یہ پہلی مثال ہے کہ اس وقت تک گزشتہ سال جتنے وعدے آگئے تھے اس سے تمیں ہزار کے وعدے کم ہیں۔ اس میں کچھ حصہ تو وہ ہے جس کا پاکستان کی انجمن سے تعلق نہیں ۔ یعنی وہ ہندوستان کے وعدے جہاں سے پچھلے سال بائیس ہزار اور کچھ سو کے وعدے آئے تھے اور اس سال بارہ ہزار اور کچھ سو کے وعدے آئے ہیں ۔ چونکہ یہ رقم وہیں وصول ہوتی ہے اور وہیں خرچ ہوتی ہے اس لیے ممکن ہے کہ وعدوں کے بھیجے جانے میں پوری توجہ نہ دی گئی ہو یا جماعتیں یہاں ھیجنے کی ضرورت نہ بجھتی ہوں۔ لیکن ہندوستان کے وعدوں کو چھوڑ کر پاکستان اور غیر ملکوں سے اس وقت تک جتنے وعدے آجاتے تھے اس سال ان میں بھی بیس ہزار کی کمی ہے۔ سابق دستور کے مطابق بجائے اس کے کہ ہر سال وعدوں میں زیادتی ہوتی اس سال وعدوں میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ تحریک جدید کا دفتر جو دفتر دوم کہلاتا ہے وہ اگر چہ اب ہمیشہ کے لیے ہے لیکن نام اس کا دفتر دوم ہی رہے گا۔ کیونکہ جب اس دفتر کا آغاز کیا گیا تو اس کا نام دفتر دوم ہی رکھا گیا تھا ۔ اب آئندہ لوگ اس دفتر میں شامل ہوں گے ۔ صرف یہ ہوگا کہ ہر شخص کا کھاتہ الگ الگ ہوگا اور اس میں درج ہوگا کہ اس نے کس وقت سے کس وقت تک اشاعتِ اسلام میں مدد دی ہے۔ ممکن ہے کہ بعد میں بعض اور ذرائع بھی استعمال کئے جائیں کہ ان لوگوں کے نام یادگار کے طور پر محفوظ کر لیے جائیں جنہوں نے اشاعت اسلام میں مدد دی۔ لیکن جیسا کہ میرا ارادہ ہے 19 سال کے پورا ہونے پر جن لوگوں نے اس تحریک میں حصہ لیا ہے (اگر چہ یہ چندہ جاری رہے گا۔ لیکن جن لوگوں نے اس وقت تک اس تحریک میں حصہ لیا ہے۔ ) اُن کے نام ریکارڈ میں محفوظ کر لیے جائیں ۔ میرا اراداہ ہے کہ انیس سال کے اختتام پر ایک رسالہ شائع کیا جائے اور اس میں ان سب لوگوں کے نام لکھے جائیں۔ جنہوں نے اشاعت اسلام میں انیس سال تک مدد دی۔ اور پھر وہ رقم بتائی جائے جو انہوں نے اس تحریک کے ماتحت اشاعت اسلام کے لیے دی۔ اس طرح آئندہ بھی اس رنگ میں مختلف اوقات پر مختلف طریقے استعمال کیے جائیں گے۔ جن سے ان لوگوں کے نام بطور یادگار محفوظ کر لیے جائیں گے تا بعد میں آنے والے ان کے نام نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے رہیں اور ہم آئندہ آنے والوں کے سامنے ان لوگوں کی مثال پیش کر سکیں۔ لیکن یا درکھو یہ چندہ عمر بھر کے لیے ہے اور یہ تحریک ہمیشہ جاری رہے گی ۔ بلکہ ہماری فطرت اور ہمارے ایمان کو اس سے انکار کرنا پڑے گا ، اس چیز کونا پسند کرنا پڑے گا کہ کسی وقت بھی یہ چندہ ان سے