خطبات محمود (جلد 34) — Page 338
1953ء 338 خطبات محمود بڑھانے کی فکر ہوگی اور اس سے یقیناً انہیں فائدہ ہوگا ۔ حال ہی میں میں نے مکئی کے متعلق تحقیقات کی ہے۔ میں امریکہ سے مکئی کا بیج منگوانا چاہتا تھا۔ ہمارے مبلغ یو ۔ این۔او کے ماہرین زراعت کو ملے ۔ تو انہیں معلوم ہوا کہ اس زمانہ میں ایسے بیج بھی ایجاد ہوئے ہیں جن سے پچاس من سے سو من تک فی ایکڑ پیداوار ہوتی ہے ۔ اب تم سمجھ لو کہ ہماری آمد کو ان کی آمد سے کیا نسبت ہے۔ یہاں مکئی کی پیدا وار دس من سے ہیں من تک ہے ۔ اچھے اچھے علاقوں میں 30 ، 35 من فی ایکڑ ہے ۔ گویا تمہاری ادنی پیداوار یعنی دس من کے مقابلہ میں ان کی پیداوار پچاس من ہے۔ اور تمہاری اعلیٰ پیداوار 20 من کے مقابلہ میں ان کی پیداوار سومن ہے۔ اب تم سمجھ لو کہ اگر ایک شخص کے پاس چارا ایکڑ زمین ہو اور وہ اس میں سے دوا یکٹر میں مکئی بولے تو اس سے سومن فی ایکڑ کے حساب سے دو سو من مکئی حاصل ہوگی ۔ اب اگر مکئی کی قیمت پانچ روپے فی من بھی فرض کر لی جائے تو تین سومن مکئی سے اسے 1500 روپے مل جائیں گے اور اس کے پاس دو ایکڑ زمین پھر بھی رہ جائے گی ۔ فرض کر لو وہ پھر ایک ایکڑ میں گنا ہوتا ہے۔ اب گڑ کے لحاظ سے مدراس سے ماریشس تک الگ الگ نسبتیں ہیں ۔ بعض ملکوں میں تین چارسو من بھی گڑ حاصل ہو جاتا ہے بلکہ گنے کے حساب سے تو یہاں تک ترقی کی گئی ہے کہ ایک دفعہ کا بویا ہوا اگتا ہاں تک ترقی کی گئی ہے کہ ایک دفعہ کا گیارہ گیارہ سال تک کام آتا ہے۔ اب اگر 300 من گڑ فی ایکڑ فرض کر لیا جائے تو دوا یکڑ سے 600 من گرد میسر آجائے گا ۔ اگر گڑ کی پرانی قیمت بھی لگا لو یعنی پانچ روپے فی من بھی لگا لو تو اس کی آمد تین ہزار روپے کی ہوگی ۔ اور اگر مکئی کی قیمت 1500 روپے اس رقم میں شامل کر دیئے جائیں تو کل آمد 4500 روپے کی ہوئی۔ اور زمین صرف تین ایکڑ تھی ۔ اور یہ معمولی آمد ہے جو دوسرے ملکوں میں پیدا کی جاتی ہے۔ پس بجائے مہنگا اناج فروخت کرنے کے اگر یہ کوشش کرو کہ تمہیں اچھے بیج مل جائیں پھر زمین میں اچھے ہل دیئے جائیں اور پانی دیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ لیکن اگر قیمت کا اندازہ پہلے ہی پچاس روپے فی من لگا لیا جائے تو زمیندار کو فصل زیادہ کرنے کی کوشش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ حالانکہ اتنی زیادہ قیمت ہر سال نہیں ملتی ۔ ہر سال جو حالات ہوتے ہیں اُن کو مد نظر رکھا جائے تو قیمت یہی ہوگی۔ بہر حال اگر کسی ملک میں کسی سال غلہ کم ہوتا ہے تو وہ تکلیف اٹھاتا ہے اور