خطبات محمود (جلد 34) — Page 329
خطبات محمود 329 1953ء ہمت دلوانے کے لیے تھے۔ ورنہ حقیقتاً جس کام کے لیے تو نے جماعت کو بلایا تھا وہ ایمان کا ایک جزو ہے۔ اور ایمان کو کسی حالت میں اور کسی وقت بھی معطل نہیں کیا جا سکتا اور اسے کسی صورت میں ترک نہیں کیا جاسکتا۔ جس خدا نے آسمان سے محمد رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل کر کے مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی تلقین فرمائی ، جس خدا نے آسمان سے محمد رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل کر کے مسلمانوں کو زکوة کی تلقین فرمائی ، جس خدا نے آسمان سے محمد رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل کر کے مسلمانوں کو روزے کی تلقین فرمائی ، جس خدا نے آسمان سے محمد رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل کر کے مسلمانوں کو صلى الله سلم الله ن کا فرض حج کی تلقین فرمائی ۔ اُسی خدا نے آسمان سے محمد رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل کی کہ ہر مسلمان کا ہے کہ وہ اسلام کی تعلیم کو دنیا کے کناروں تک پہنچائے ۔ اور کوئی روح ایسی باقی نہ رہے جس تک خدا تعالیٰ کا کلام پہنچ نہ جائے ۔ اُس نے اپنے کلام میں اس تعلیم کا نام جہاد رکھا ۔ اور اپنے پیارے رسول کو مخاطب کر کے فرمایا ۔ وَجَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا 1 تو اس قرآن کے ذریعے ساری دنیا کے لوگوں کے ساتھ جہاد کر ۔ پس اگر کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ آؤ میری خاطر انیس سال نماز پڑھ لو ، اگر کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ آؤ میری خاطر انیس سال زکوۃ دے لو، اگر کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ آؤ میری خاطر انیس سال تک روزے رکھ لو۔ تو وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میری خاطر انیس سال ذوہ یہ سکتا ہے اشاعت اسلام میں حصہ لے لو۔ لیکن اگر کسی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہ کہے کہ تم میری خاطر انیس سال نماز ادا کر لو یا یہ کہے کہ تم میری خاطر انیس سال زکوۃ دے لو یا میری خاطر تم انیس سال روزے رکھ لو تو اُس کے لیے یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ کسی کو انیس سال کے لیے تبلیغ اسلام اور جہاد روحانی کے لیے بلائے ۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ تم نے خود جماعت کو انیس سال کے لیے تبلیغ اسلام اور جہاد روحانی کے لیے بلا کر اس فعل کا ارتکاب کیا ہے۔ تو میرا جواب یہ ہوگا کہ اس فعل کا ارتکاب تو میں نے نہیں کیا ، ہاں اس مجرم کا مرتکب ضرور ہوا ہوں کیونکہ زمانہ تبلیغ اسلام اور جہاد روحانی کے فرض کو اتنا بھول گیا تھا اور لوگ اس سے اتنے غافل اور نا واقف ہو گئے تھے کہ میری عقل نے بھی خیال کیا کہ انیس سال تک کی کوششوں کے بعد ان کے گناہوں کا ازالہ ہو جائے گا۔ لیکن انیس سال کام کرنے کے بعد مجھے اس کا یہ انعام ملا کہ میرا دماغ روشن ہو گیا ۔ اور میں نے اپنی غلطی محسوس کر لی کہ میرا