خطبات محمود (جلد 34) — Page 314
1953ء 314 38 خطبات محمود دنیا میں وہی قومیں ترقی کیا کرتی ہیں جو باتوں سے زیادہ کام کی طرف توجہ دیتی ہیں۔ دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے خود عمل کر کے دکھلاؤ فرموده 13 نومبر 1953ء بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ اورسورہ وو آج میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ خالی باتیں دنیا میں کبھی کوئی نتیجہ پیدا نہیں کیا کرتیں۔ جب قوموں میں تنزل کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں تو اُن میں باتیں زیادہ ہو جاتی ہیں اور کام کم ہو جاتا ہے۔ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں اور وہی قو میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سایہ کے نیچے ہوں گی جن میں باتوں سے زیادہ کام کا خیال اور احساس ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ 1 اے مومنو! جو کام تم نے کیا نہیں اُس کے متعلق تم باتیں کیوں کرتے ہو؟ منہ سے بہادر بننے سے کوئی انسان بہادر نہیں بن جاتا۔ منہ سے اپنے آپ کو سخی کہنے سے کوئی آدمی سخی نہیں بن جاتا ۔ منہ سے انصاف کا دعویٰ کرنے والا منصف نہیں کہلا سکتا ۔ بلکہ تم دیکھو گے کہ اکثر رشوت لینے والے مجلسوں میں رشوت کے خلاف تقریریں کرتے ہیں وہ جب بھی تقریر کریں گے یہی کہیں گے کہ رشوت بہت بُری چیز ہے، ہماری قوم میں رشوت بہت پھیل گئی ہے، حالانکہ وہ خود رشوت لیتے ہیں ۔ تم اکثر