خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 307

1953ء 307 خطبات محمود مثلاً تم مسجد میں نماز کے لیے جمع ہوا اور سارے کے سارے قبلہ رو ہو کر بیٹھے ہو۔ خطبہ ہو رہا ہے اور اس کے مناسب حال تم خاموش بیٹھے ہو۔ اور عبادت کے پیش نظر تم ذکر الہی کر رہے ہو اور دینی خیالات تمہارے دلوں میں پیدا ہو رہے ہیں ۔ تو یہ نظارہ دیکھ کر ہر ایک کے دل پر نیک اور اچھا اثر ہوگا۔ لیکن یہاں سے اٹھا کر اگر تمہیں میدانِ جنگ میں لے جایا جائے اور وہاں تم اسی طرح بیٹھ جاؤ تو تمہاری یہی حرکت جو یہاں پسندیدہ ہے وہاں نا پسندیدہ ہو جائے گی ۔ مثلاً اگر دشمن مشرق کی طرف ہے اور تم مغرب کی طرف منہ کر کے بیٹھ جاؤ اور ذکرِ الٰہی میں مصروف ہو جاؤ تو کوئی شخص تمہیں یہ نہیں کہے گا کہ تم مومن ہو یا تمہارا ایمان کامل ہے ۔ ہر ایک یہی کہے گا کہ تم بڑے بے وقوف ہو۔ یا مثلاً کھیل کے میدان میں نوجوان کھیلنے جاتے ہیں تو بڑی عمر کے لوگ بھی اُن کی حوصلہ افزائی اور کھیل سے لطف اندوز ہونے کے لیے وہاں چلے جاتے ہیں ۔ کھیل کے میدان میں فٹ بال رکھا ہوتا ہے۔ ایک لڑکا دو کا دوڑتا آتا ہے اور اُسے ز اُسے زور سے پیر مارتا ہے۔ اُس کے دوڑنے کے طریق کو لوگ پسند کرتے ہیں اور جس شان سے وہ پیراٹھاتا ہے لوگ اُسے بھی پسند کرتے ہیں ۔ اور جس طرح وہ فٹ بال کو پیر لگاتا ہے اُسے بھی پسند کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نماز کے لیے بیٹھے ہوں اور ہیں لیکن اگر ہم نماز کے لیے بیٹھے ہوں کوئی شخص دوڑتا ہوا آئے اور وہ اپنا پیراٹھا کر زور سے کسی شخص کی پیٹھ پر مارے تو کوئی شخص اس کی حرکت پر واہ واہ نہیں کہے گا۔ بلکہ اردگرد کے لوگ کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے کوئی پاگل آگیا ہے۔ اور اگر انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ وہ شخص پاگل نہیں تو وہ اُسے ناشائستہ اور بد تہذیب قرار دیں گے ۔ حرکت وہی ہے جو ایک کھلاڑی کی ہے۔ لیکن اس پر کوئی شخص تحسین و مرحبا نہیں کہتا ۔ بلکہ لوگ اُسے بے وقوف ، پاگل یا بد تہذیب قرار دیتے ہیں اور ناشائستہ کہتے ہیں ۔ زکوة کتنی ضروری چیز ہے۔ بنی نوع انسان کی ہمدردی اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرنا ، پسندیدہ امر سمجھا گیا ہے۔ اور اسے دین کا جزو قرار دیا گیا ہے ۔ لیکن اس کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ا اپنے ہاتھوں کو بالکل بھی نہ کھول دو 1 ۔ اور رسول کریم ﷺ فرما فرماتے ۔ صلى الله ہیں کہ خدا تعالیٰ کے راستے میں اپنا سب کچھ دے دینا ۔ اور اس کا یہ نتیجہ ہونا کہ رشتہ دار دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں کوئی نیکی نہیں 2۔ پس ہر چیز موقع کے لحاظ سے اچھی ہوتی ہے۔ کھیل