خطبات محمود (جلد 34) — Page 262
1953ء 262 خطبات محمود ارے اندر وہ لوگ نہیں ہوں گے جو یہ باتیں سوچنے پر تم کو مجبور کر دیں ، جب تک تم میں ایسے لوگ نہیں ہوں گے جو تمہارے اعمال کا محاسبہ کر کے تمہیں بتائیں کہ تم صحیح راستہ پر چل رہے ہو یا نہیں ، جب تک تم میں ایسے لوگ نہیں ہوں گے جو خلاف اسلام حرکات دیکھتے ہی جماعت میں شور مچا دیں اور تمہیں ان سے باز رکھنے کی کوشش کریں۔ اُس وقت تک تمہارا سارا کاروبار محض دھوکا بازی محض فریب اور محض بے ایمانی ہے۔ تمہارے اندر جماعتی طور پر وہ دیانت ہونی چاہیے ، تمہارے اندر وہ امانت ہونی چاہیے۔ تمہارے اندر وہ سچائی ہونی چاہیے، تمہارے اندر وہ راست بازی ہونی چاہیے۔ تمہارے رے اندر وہ اخلاق ہونے چاہیں ۔ تمہارے اندر وہ وہ حلم ہو نا چاہیے، تمہارے برد باری ہونی چاہیے ، تمہارے اندر وہ غریبوں کی پرورش ہونی چاہیے، تمہارے اندر وہ لوگوں کی ہمدردی ہونی چاہیے ، تمہارے اندر بنی نوع انسان سے وہ اخلاص ہونا چاہیے جو دوسری قوموں میں نہیں پایا جاتا۔ جب یہ ساری باتیں تمہارے اندر ہوں اور پھر ساتھ ہی خدا تعالیٰ کی محبت ہو تو تم کامیاب ہو۔ اور اگر یہ نہیں تو تمہارے دعوے محض ڈھکوسلے ہیں ۔ تم نے دنیا میں بلا وجہ ایک شور برپا کیا ہوا ہے اور محض فتنہ اور فساد کو بھڑ کا یا ہوا ہے۔ لوگ تمہیں دیکھ کر چڑتے ہیں ، وہ تمہیں دیکھ کر بگڑتے ہیں ۔ بے شک ان کا بھی کوئی حق نہیں کہ وہ تمہیں دیکھ کر بگڑیں اور شور مچائیں ۔ مگر تمہارا بھی کوئی حق نہیں کہ تم اُن سے جھگڑو جب کہ تم نے ایک الگ وجود بنانے کا اپنے آپ کو حقدار ہی ثابت نہیں کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک دفعہ سوال کیا گیا کہ آپ نے ایک الگ جماعت کیوں بنائی ہے؟ آپ نے فرمایا اگر ایک شخص کے پاس ایک سیر دودھ ہو اور دوسرے کے پاس دوسیر دہی ہو تو کیا اُس دودھ اور دہی کو آپس میں ملایا جا سکتا ہے؟ اگر دودھ کو دہی میں ڈال دیا جائے گا تو دودھ پھٹ جائے گا اور وہ کسی کام کا نہیں رہے گا ۔ اسی طرح میرے پاس تھوڑے سے آدمی ہیں جو دین دار اور تقوی شعار ہیں اگر یہ دوسروں کے ساتھ مل جائیں تو ان میں بھی خرابیاں پیدا ہو جائیں ۔ بے شک مسلمانوں کے پاس قرآن موجود ہے ، حدیث موجود ہے لیکن اصل بات دیکھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن اور حدیث سے سے کتنا فائدہ اٹھایا گیا ہے اور باوجود ماننے اُس سے فائدہ نہیں اٹھاتے ۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ماننے والے قرآن اور حدیث سے جود کے