خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 210

1953ء 210 خطبات محمود مسلمان ہونے کے بعد بھی کچھ دنوں تک رسول کریم ﷺ کی صحبت میں رہا۔ جب کئی دن گزر گئے تو صلى الله اُس نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ اب مجھے واپس جانے کی اجازت د جانے کی اجازت دیجئے ۔ اور ساتھ ہی اس بات کی بھی اجازت دیجئے کہ کچھ دنوں تک میں اپنے دل کی بات کو مخفی رکھوں ۔ آپ نے فرمایا بہت اچھا اجازت ہے۔ اس پر وہ باہر نکلے اور اپنے قبیلہ کی طرف واپس جانے لگے ۔ عربوں میں رواج تھا کہ جب وہ مکہ میں داخل ہوتے یا کہیں باہر جانے کے لیے مکہ سے نکلتے تو خانہ کعبہ کا ضرور طواف کیا کرتے تھے۔ اِس دستور کے مطابق وہ بھی خانہ کعبہ کا طواف کرنے کے لیے گئے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں ابو جہل اور دوسرے بڑے بڑے عمائد بیٹھے ہیں ۔ رسول کریم ﷺ کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں۔ اسلام پر ہنسی اڑا رہے ہیں اور بڑے فخر کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں ۔ انہوں نے جب یہ باتیں سنیں تو اُن کا جوش ایمان ظاہر ہو گیا اور وہ غصہ سے ان کے سامنے کھڑے ہو گئے ۔ اور کہنے لَى أَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلهُ إِلَّا اللَّهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ - أَن كَالَا إِلهَ إِلَّا الله کہنا تھا کہ سب لوگ جوش میں آگئے اور اُن پر ٹوٹ پڑے اور انہیں خوب مارا پیٹا ۔ وہ مارتے جاتے تھے اور یہ بار بار کہتے چلے جاتے تھے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ - جب پیتے پیتے بہت ہی نڈھال ہو گئے تو اتفاقاً حضرت عباس وہاں سے گزرے اور انہوں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے۔ اور اسے کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ صابی ہو گیا ہے اور خانہ کعبہ میں کفر بکتا ہے ۔ حضرت عباس آگے بڑھے اور انہوں نے اُس سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں غفار قبیلہ کا رہنے والا ہوں اور غفار قبیلہ ایسی جگہ پر تھا جہاں سے مکہ والوں کا غلہ گزرتا تھا۔ حضرت عباس نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے مکہ والوں سے کہا کہ کمبختو ! تمہاری عقل ماری گئی ہے۔ بے شک یہ مسلمان ہو گیا ہے مگر ہر قوم میں بیچ ہوتی ہے۔ اگر غفار قبیلہ والوں کو پتا لگا کہ مکہ والوں نے ہمارے ایک غفاری کو مارا ہے تو وہ مکہ میں غلہ نہیں آنے دیں گے اور تم بھو کے مر جاؤ گے۔ اس پر انہیں چھوڑ دیا۔ دوسرے دن پھر طواف کرنے کے لیے گئے تو دیکھا کہ پھر اسلام کو گالیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے پھر بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھا اور لوگوں نے پھر انہیں مارنا شروع کر دیا۔ اتفاقاً پھر حضرت عباس " آگئے اور انہوں نے آپ کو اُن کے نرغہ سے چھوڑایا۔ تیسرے