خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 201

1953ء 201 خطبات محمود اور دس آنے ہمارے ہوں گے ۔ ہم نے دوستوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ میں تو یہ پریس لگا لیں گے۔ اور ایک لاکھ ان کے باقی سارے کارخانے کی قیمت ہے۔ گویا یہ چاہتے ہیں کہ ان کے کارخانہ کی قیمت بھی انہیں مل جائے ، پریس بھی لگوالیں اور پھر ہمارے روپیہ سے ہی تجارت کر کے چھ آنے ہمیں دے دیں اور دس آنے اپنے پاس رکھیں ۔ چنانچہ ہم نے ان پر زور دیا کہ ان شرطوں کو کچھ نرم کیا جائے۔ مگر انہوں نے شرطیں نرم نہ کیں ۔ اس پر خدا تعالیٰ نے میرے دل میں تحریک پیدا کی کہ کنری میں جگہ لو اور وہاں اپنا کارخانہ بناؤ۔ چنانچہ کنری میں ہم نے اُس وقت کارخانہ بنایا ہے جب وہاں ایک جھونپڑی بھی نہ تھی ۔ ہمارے کارخانہ کی بدولت ہی یہ کنری شہر بنا ہے۔اس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں کارخانہ بھی دے دیا اور پھر اس کارخانہ کی وجہ سے وہاں آبادی ہو گئی اور شہر بن گیا۔ اسی طرح نبی سرروڈ میں بھی جو آبادی ہوئی وہ اسی اسٹیٹ کی وجہ سے ہے۔ اور جس دن خدا تعالیٰ نے ہمیں نبی سر روڈ میں دُکانیں اور مکان بنانے کی توفیق عطا فرمادی تم دیکھو گے کہ یہ بھی ایک اچھا خاصا شہر بن جائے گا۔ صرف دو جگہیں باقی رہ گئی ہیں ۔ ایک ناصر آباد اور ایک محمد آباد ۔ ناصر آباد تو ریل سے دو میل پرے ہے ۔ لیکن محمد آباد اسٹیشن سے قریب ہے اور گو ابھی وہاں کوئی شہر نہیں لیکن اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹاہلی بھی عنقریب شہر بننے والا ہے۔ یہ ایک الی تصرف تھا جس کے ماتحت اس علاقہ میں ہمیں اتنی بڑی زمین مل گئی ۔ ہمارے ملک میں ایک گاؤں عموماً پانچ سو ایکڑ میں بسایا جاتا ہے۔ اور یہاں ہماری جماعت کے افراد، صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید کی جو زمین ہے اگر اس کو جمع کیا جائے تو اکیس ہزا را یکڑ بنتی ہے۔ گویا اگر ہم پنجاب کے نمونہ پر یہاں گاؤں بسانا چاہیں تو بیالیس گاؤں بسا سکتے ہیں ۔ پھر یہ ہماری زمین ریلوے لائن کے قریب ہے۔ اور ہماری اپنی جنگ فیکٹری (Ginning Factory) اور پریس وغیرہ ہے۔ غرض یہ ایک بہت بڑی جائیداد ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے ۔ گو بد قسمتی سے ہم اپنی اس جائیداد کو ابھی تک ایسے رنگ میں نہیں لا سکے کہ سلسلہ کو معتد بہ آمد ہو سکے۔ کئی سال کے بعد اب صدرانجمن کا زمینی قرضہ اترا ہے۔ مگر تحریک کا ابھی آٹھ لاکھ کے قریب قرض