خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 184

1953ء 184 24 خطبات محمود جو شخص اللہ تعالی اور اُس کے رسولوں پر سنجیدگی سے ایمان نہیں لاتا اُس کے سارے کام بے حقیقت ہو جاتے ہیں (فرمودہ 17 جولائی 1953ء بمقام ناصر آباد سندھ ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ وو دنیا میں سب چیزوں سے اہم اور سب چیزوں سے زیادہ بھروسا کے قابل انسان کی سنجیدگی ہوتی ہے۔ جب تک اس میں سنجیدگی نہ ہو اُس وقت تک اس کے کسی کام پر نہ اعتبار ہو سکتا ہے اور نہ بھروسا ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی ذات کتنی اہم اور کتنی مقدم ہے۔ ساری کائنات کا پیدا کرنے والا ہے۔ ساری ہستیاں اُس کی محتاج ہیں اور سارے کام اُس کے ساتھ وابستہ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ پر سنجیدگی سے ایمان نہیں لاتا اور اُس کی ذات اُس کے سامنے ہر وقت حاضر نہیں رہتی تو اُس کے سارے کام بے حقیقت ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کے رسول کتنی شان کے مالک ہیں اور رسالت کتنی اہم چیز ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص رسالت کے ساتھ بھی سنجیدگی سے تعلق نہیں رکھتا تو رسالت پر ایمان لانا رض صلى الله اُسے فائدہ نہیں دے سکتا ۔ چنانچہ دیکھ لو صحابہؓ بھی رسول رسوا کریم ﷺ علی برایمان پر ایمان لا لائے تھے اور اور آج آجکل