خطبات محمود (جلد 34) — Page 182
1953ء 182 خطبات محمود اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ رو پیدا بھی مسجد کی تعمیر کے لیے اس پر اور خرچ ہوگا ۔ موجودہ رفتار کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر جماعت میں موجودہ اخلاص برابر قائم رہے تو دس سال میں صرف امریکہ کی مسجد کے لیے چندہ جمع ہو سکتا سکتا ہے۔ حالانکہ اگر سب دوست با قاعدہ چندہ دیں تو دس سال میں میں تین چار مسجدیں بن سکتی ہیں۔ اور امریکہ کی مسجد بڑی آسانی سے دو اڑھائی سال میں تیار ہو سکتی ہے۔ یہ چیز اپنی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ تعلق رکھتی ہے ۔ جتنا جتنا کسی میں اپنی ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے اُتنا ہی اُس کے اندر جوش اور قربانی کا مادہ پایا جاتا ہے۔ اگر ہمارے یہ دعوے جھوٹے ہیں کہ ہم نے دنیا میں اسلام کی اشاعت کرنی ہے تو ہمیں ساری دنیا سے لڑائی مول لینے کی بجائے ان کے ساتھ مل جانا چاہیے۔ اور جس طرح وہ مردہ ہیں اُسی طرح خود بھی مردہ بن جانا چاہیے ۔ اور اگر ہمارے اندر زندگی کے آثار ہیں اور ہم اپنے دعووں میں سچے ہیں تو پھر ہمیں یہ نہیں دیکھنا پڑے گا کہ ہمارے حالات کیا ہیں اور ہم پر کس قدر بوجھ پڑے ہوئے ہیں ۔ بلکہ ہمیں آخر دم تک دین کی خدمت کے لیے اپنی ہر چیز کو قربان کرنے کے لیے تیار رہنا پڑے گا۔ اور خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہماری جماعت میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو ہر قسم کی قربانی کے لیے پوری بشاشت کے ساتھ تیار رہتے ہیں ۔ ہماری جماعت میں ایک غریب سقہ تھا۔ جب بھی چندہ کی کوئی تحریک ہوتی تو وہ فوراً آجاتا اور کچھ نہ کچھ چندہ دے دیتا۔ اُس کی تنخواہ صرف تیں روپے ماہوار تھی مگر آہستہ آہستہ اُس کے چودہ پندرہ روپے چندہ میں جانے لگے اور وہ ہر نئی تحریک پر اصرار کرتا کہ اس میں میرا بھی حصہ شامل کیا جائے ۔ وہاں کے امیر جماعت نے مجھے لکھا کہ ہم اس کو بار بار سمجھاتے ہیں کہ تمہاری مالی حالت کمزور ہے تم ہر تحریک میں حصہ نہ لیا کرو، ہر تحریک غرباء کے لیے نہیں ہوتی ۔ مگر وہ کہتا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ چندہ کی تحریک ہو اور پھر میں اس میں حصہ نہ لوں اس لئے آپ سے کہا جاتا ہے کہ آپ اُسے روکیں۔ چنانچہ میں نے اُسے پیغام بھجوایا کہ آپ چندوں میں اس قدر زیادہ حصہ نہ لیا کریں۔ تب کہیں جا کر وہ رُکا۔ تو ایسے لوگ ہماری جماعت میں پائے جاتے ہیں ۔ مگر اُن کی تعداد کم ہے۔ زیادہ تر وہی پنے آپ کو تو چودھری سمجھتے ہیں اور جن کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ۔ وہ احمد