خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 171

1953ء 171 خطبات محمود مقصد نہیں کہ وہ چاہتی ہے کہ ملک میں امن قائم ہوا اور فتنہ پیدا کرنے والے عناصر کو سر اُٹھانے کا موقع نہ ملے ۔ اور چونکہ یہ ہمارے خلاف لوگوں کو اُکسا کر حکومت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ صرف ہماری ہی تائید نہیں فرمائے گا بلکہ وہ اس حکومت کی بھی تائید فرمائے گا جو ہماری وجہ سے بلکہ یوں کہو کہ انصاف قائم رکھنے کی کوشش کی وجہ سے مطاعن 2 کا ہدف بنی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جب کوئی شخص ناراستی 3 کی وجہ سے کسی قوم کو اپنا ہدف بناتا ہے۔ تو خدا تعالیٰ کی غیرت نہ صرف مظلوم کو بچانے کے لیے بھڑکتی ہے بلکہ وہ اُن لوگوں کو بھی بچاتی ہے جو اُس مظلوم کا ساتھ دینے کی وجہ سے دنیا کی نگاہ میں بدنام ہو رہے ہوں۔ پس سُہر وردی صاحب نے جو کچھ کہا ہے اِس سے انہوں نے اپنے لیے کوئی کامیابی کا راستہ نہیں کھولا بلکہ اپنی کامیابی کے راستہ میں اُنہوں نے کانٹے بچھا لئے ہیں ۔ انہوں نے حکومت کے مٹانے کی کوشش کی ہے لیکن حکومت کا مقابلہ کرتے ہوئے انہوں نے خدا تعالیٰ پر حملہ کر دیا ہے۔ خدا اس دنیا میں امن قائم کرنا چاہتا ہے۔ خدا اس دنیا میں انصاف قائم کرنا چاہتا ہے۔ اگر کوئی شخص ان کو مٹانا چاہتا ہے اورانصاف کی بجائے ظلم و تعدی کا راستہ کھولنا چاہتا ہے تو وہ اور اور خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرتا ہے اور خدا ایسے شخص کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ بے شک بعض زمانے ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں خدا تعالیٰ لوگوں کو کھلا چھوڑ دیتا ہے کہ جو تمہارے جی میں آتا ہے کرو میں تمہارے معاملات میں دخل دینے کے لیے تیار نہیں ۔ لیکن یہ وہ زمانہ ہے جس میں خدا دخل دے رہا ہے۔ اور ایسے زمانہ میں جب خدا دنیا کے معاملات میں دخل دے رہا ہو اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرتا اور دنیا میں ظلم اور نا انصافی کو قائم کرنا چاہتا ہے تو خدا اُس کے شر اور ضرر سے دنیا کو ضرور بچاتا ہے اور وہ اپنے ارادہ میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔،، )اصلح 14 جولائی 1953ء 1 المصلح 2 جولائی 1953 صفحہ 2 2 مطاعن مطعن کی جمع بمعنی طعنے ۔ عیب 3 ناراستی: ناراست: ٹیڑھا۔ جھوٹ ۔ نامناسب کج دروغ