خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 165

1953ء 165 خطبات محمود میں ہی پیدا ہو کیونکہ ہمیں نظریہ آتا ہے کہ اس دفعہ جو فتنہ اٹھا ہے یہ خالص مذہبی نہیں تھا بلکہ سیاسی تھا۔ ہمارے ملک میں حکومت لیگ کی ہے اور لیگ کی حکومت جب سے پاکستان بنا ہے برابر چلتی چلی جا رہی ہے اور بظاہر آثار ا یسے نظر آتے ہیں کہ ایک لمبے عرصہ تک مسلم لیگ کی حکومت ہی قائم رہے گی۔ لیکن بدقستمی سے لیگ کے کارکنوں کا ایک حصہ جس نے پاکستان بننے کے وقت بڑی قربانی کی تھی اپنے دوسرے ساتھ مرے ساتھیوں ۔ سے اختلاف ہو جانے کی وجہ سے ) لیگ سے علیحدہ ہو۔ علیحدہ ہونے پر مجبور ہو گیا۔ مگر چونکہ اُس وقت نیا نیا پاکستان بنا تھا ملک کا بیشتر حصہ یہ چاہتا تھا کہ ہمارے ملک میں زیادہ پارٹیاں نہ بنیں اور نظم ونسق ایک ہی ہاتھ میں رہے۔ چنانچہ باوجود اس کے کہ یہ جدا ہونے والے مشہور آدمی تھے اور انہیں خیال تھا کہ اکثریت اُن کا ساتھ دے گی لوگوں نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی قربانیاں بڑی تھیں ، وہ ملک کے خیر خواہ بھی تھے، انہیں لوگوں میں رسوخ بھی حاصل تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم لیگ سے الگ ہو گئے تو لیگ کا اکثر حصہ ہمارے ساتھ شامل ہو جائے گا۔ لیکن لوگوں کے دلوں میں جو یہ احساس پیدا ہو چکا تھا کہ زمانہ نازک ہے ہمیں اس نازک زمانہ میں اپنے اندر تفرقہ پیدا نہیں کرنا چاہیے یہ اتنا مضبوط ثابت ہوا کہ وہ لیگ سے باہر نکل کر ایک عضو بے کار بن کر رہ گئے اور اکثریت نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہم سیاسیات کے ذریعہ لیگ کو شکست نہیں دے سکے ۔ بوجہ اس کے کہ مسلمانوں میں اتحاد کا جذ بہ موجود ہے اور وہ اپنی حکومت کے قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں تو انہوں نے سوچا کہ اب ہمیں کوئی اور تدبیر اختیار کرنی چاہیے ۔ اور ایسے رستہ سے حکومت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے جس میں عوام کی تائید ہمارے ساتھ شامل ہو۔ چنانچہ اس غرض کے لیے انہوں نے علماء کو چنا تا کہ لوگوں کو یہ محسوس نہ ہو کہ یہ حکومت اور لیگ کی مخالفت ہے بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ یہ مخالفت صرف مذہب اور لا مذہبی کی ہے اور اس غفلت اور جہالت میں وہ اپنے اصل موقف کو چھوڑ دیں۔ اور ایسے مواقع پیدا کر دیں جو بعد میں ان لوگوں کے لیے حکومت سنبھالنے کا موجب بن جائیں۔ چنانچہ اس فتنہ کی تمام تاریخ اس بات پر شاہد ہے حتی کہ عملی طور پر اس فتنہ سے دلچسپی رکھنے والے اور مذہبی طور پر ہم سے اختلاف رکھنے والے وزراء نے بھی جب تقریریں کیں تو انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ فتنہ سیاسی ہے مذہبی نہیں ۔ اور سیاسی فتنہ اُس وقت تک قائم رہتا ہے