خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 155

1953ء 155 (21 خطبات محمود مذہب کی اصل غرض اعمال کی اصلاح ہے اور یہ اصلاح کوشش اور محنت کے بغیر کبھی نہیں ہو سکتی فرمودہ 26 جون 1953 ء بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ " میں گزشتہ کئی ہفتوں سے ربوہ کے لوگوں کو خصوصاً اور تمام احمد یہ جماعت کو عموماً اس میں گزشتہ کئی ہفتوں سے ربوہ کے لوگوں کو خصوصاً طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ مذہب کی آخر کوئی غرض ہوتی ہے ۔ مذہب اصلاح نفس کے لیے آتا ہے ۔ عقائد پر بیوقوف لوگ زیادہ لڑتے ہیں حالانکہ عقائد کا مان لینا کوئی خرچ نہیں چاہتا ۔ لوگ بڑی سے بڑی بات مان لیتے ہیں اور بڑی سے بڑی بات کا انکار کر دیتے ہیں ۔ مگر اس پر ان کا کوئی خرچ نہیں آتا ۔ایسے لوگ دنیا میں موجود ہیں جو ذرا سے اشتعال دلانے پر کہہ دیتے ہیں ۔ ہم نہیں جانتے خدا تعالیٰ کیا چیز ہے ، ہم نہیں جانتے رسول کیا چیز ہے، ہم نہیں جانتے قرآن کریم کیا چیز ہے۔ پھر وہ لوگ بھی موجود ہیں، جو معمولی سا لالچ دلانے پر اپنا مذہب تبدیل کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں ۔ میرے پاس اس قسم کے اکثر خطوط آتے رہتے ہیں کہ احمدیت بڑی اچھی چیز ہے، میں اس پر ایمان لا چکا ہوں ۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان کے ساتھ کھانا پینا بھی