خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 146

1953ء 146 خطبات محمود بھی غور کی عادت پیدا کرو۔ تاتم میں سے ہر شخص فلاسفر بن جائے اور اُس پر جو سوال ہو اُس کا وہ معقول جواب دے۔ اب تو تم قریب کے سوالوں کا بھی جواب نہیں دے سکتے ۔ اس لیے تم دنیا کی نظروں میں بھی المصد ذلیل ہو اور خدا تعالیٰ کی نظروں میں بھی ذلیل ہو۔" مصلح یکم جولائی 1953ء ) 1836-1930) ایک ممتاز جرمن()THEODOR NOLDEKE(:1 : نولڈ کے مستشرق جو اپنے وقت میں سامی زبانوں کا سب سے بڑا ماہر تسلیم کیا جاتا تھا۔ سامی زبانوں کے علاوہ اس نے ایران کی قدیم تاریخ اور اسلامی مذہب اور تاریخ کے متعلق بھی محققانہ کتابیں لکھیں۔ اس نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ سٹر اس برگ (STRASSBURG) کی یونیورسٹی میں ایک نامور پروفیسر کی حیثیت سے گزارا اور بہت سے لائق شاگرد پیدا کئے ۔ اسکی تالیف میں سے تاریخ القرآن خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ اس نے شاھنامہ فردوسی پر ایک مطول مقالہ لکھا تھا جسے پروفیسر محمد اقبال نے اردو میں منتقل کر دیا تھا ۔ وو اردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد 2 صفحہ 1759 مطبوعہ لاہور 1988 ء ) 2: انسائیکلو پیڈیا برٹینی کا زیر لفظ ”قرآن“ :3 وَكَائِنُ مِنْ آيَةٍ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ ۔ (يوسف: 106) 4 دیوجانس: (Diogenes) تقریبا 412-323 ق م یونانی کلبی فلسفی ۔ وہ ایتھنز میں رہتا تھا جہاں اس نے ایک ٹب میں رہ کر سادہ زندگی بسر کرنے کے عقیدے پر زور دیا۔ جب سکندراعظم نے از راہ اخلاق پوچھا کہ میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں ؟ تو اس فلسفی نے جواب نے جواب دیا۔ ” آپ میرے لئے فقط دھوپ چھوڑ دیجیے سکندر کا سایہ اُس وقت دھوپ روک رہا تھا۔ کہتے ہیں کہ دیو جانس روز روشن میں لالٹین لے کر ”انسان“ (یعنی صحیح انسانی نیکیوں کا مظہر ) کی تلاش میں نکلا کرتا تھا۔ (اردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد 1 صفحہ 614 مطبوعہ لاہور 1987 ء ) :5 اقلیدس (EUCLID) یونانی ماہر ریاضیات جس نے تقریبا 330 ق م کا زمانہ پایا۔ اپنی تصنیف ELEMENTS(مبادی) کی وجہ سے مشہور ہے جو موضوعہ اصولوں ، قاعدوں اور اثباتی و عملی مسئلوں کا مجموعہ ہے۔ یہ اقلیدسی ھند سے (EUCLIDEAN GEOMETRY) کی بنیاد اور نظریہ اعداد میں بہت اہم ہے۔ (اردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد 1 صفحہ 114 مطبوعہ لاہور 1987 ء ) Wikipedia The Free Encyclopedia Underword"Archimedes":6 کے مطابق یہ واقعہ ارشمیدس (Archimedes) کا ہے۔