خطبات محمود (جلد 34) — Page 122
1953ء 122 خطبات محمود پھر مرکزی محکمہ یعنی نظارت امور عامہ جس کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے وہ بھی اس میں شریک ہے۔ مثلاً میں نے ہدایت کی ہوئی تھی کہ جود کا ندار یہاں آئیں پہلے تم خود اُن کی تحقیقات کرو۔ اور پھر مجھ سے پوچھو اس کے بعد انہیں یہاں دکان کرنے کی اجازت دو ۔ لیکن کئی ایسے دکانداروں کے نام میرے پاس آتے ہیں جنہیں میں نے اجازت نہیں دی۔ بلکہ بعض دکانداروں کا مجھے علم ہے کہ وہ بے ایمان ہیں۔ اور اگر مجھ سے پوچھ لیا جاتا تو میں انہیں کبھی اجازت نہ دیتا۔ شاید وہ ان لوگوں سے چند ٹکے لے لیتے ہیں اور انہیں دکان کی اجازت دے دیتے ہیں اور مجھ سے پوچھتے تک نہیں ۔ تم رمضان میں اتنا کام تو کرو کہ ربوہ میں بے ایمانی کو ختم کر دو ۔ اگر تم میں سے ہر ایک شخص شخص میری اس ہدایت پر عمل کرے تو کوئی شخص یہاں بے ایمانی نہیں کر سکتا۔ تم یہ نیت کر لو کہ ہم نے اُس وقت تک سانس نہیں لینا جب تک کہ بے ایمانی کو ختم نہ کر لیں ۔ تم اگر دیکھتے ہو کہ کوئی دکاندار بے ایمانی کرتا ہے تو بازاروں اور مسجدوں میں شور مچاؤ۔ میرے پاس رقعے بھیجو کہ آپ مجھے بے ایمان قرار دے دیں یا اُسے ، مگر فیصلہ ضرور کریں۔ اگر تم میں سے ایک سو آدمی بھی ایسا کھڑا ہو جائے جو یہ نیت کرلے کہ انہوں نے بے ایمانی کو ختم کر دینا ہے تو دس دن میں بے ایمانی ختم ہو جاتی ہے اور اصلاح کی صورت نکل آتی ہے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ ادنی ایمان یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بُری بات دیکھے تو اُسے دل میں تو آ۔ ناپسند کرے۔ اور اچھے ایمان کی علامت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بُری بات دیکھے تو وہ اُس کی اصلاح کی وہ کوشش کرے 6 ۔ میں سمجھتا ہوں کہ تمہاری حالت ادنی ایمان والی بھی نہیں۔ اگر تم اسے نا پسند کرتے تو ادنی نا تمہارے اندر سے کبھی تو آہ نکلتی ۔ تمہارے ساتھ جو گزرتی ہے اُس پر تم شور مچاتے ہو۔ لیکن جو چیز تمہارے ساتھ نہیں ہوتی اگر چہ وہ تمہارے سامنے ہوتی ہے کہ تم اُس پر شور نہیں مچاتے ۔ تم لوگوں میں غیرت نہیں ۔ اگر تم میں غیرت ہوتی تو تم اپنے سامنے بے ایمانی ہوتے برداشت نہ کر سکتے ۔ لوگوں نے بعض بہانے بنائے ہوئے ہیں ۔ مثلاً میونسپل کمیٹی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر میونسپل کمیٹی کا نقصان کر دیا تو کیا ہوا۔ اس لیے وہ ٹیکس ادانہیں کرتے ۔ حالانکہ وہ کمیٹی کو نقصان پہنچا کر تمام شہر کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ مثلاً یہاں گلیوں میں گند پڑا ہوتا ہے۔ اب میونسپل کمیٹی کے پاس روپیہ ہوگا تو وہ صفائی کا انتظام کرے گی۔ اگر اس کے پاس روپیہ نہیں ہوگا تو وہ کیا انتظام کرے گی۔ باہر سے آنے والے کہتے ہیں کہ کیا یہ احمدیت ہے؟ اگر تمہاری حکومت آئے گی تو تم گند ہی ڈالو گے اور کیا