خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 111

1953ء 111 خطبات محمود انسانی فطرت کا یہ خاصہ ہے کہ اگر راہ چلتے اور راہ گزروں پر کوئی حملہ کرتا ہے تو وہ اونچی آواز سے شور مچایا کرتے ہیں کہ مار دیا ، مار دیا۔ اب یہ فقرہ خبر کے طور پر تو ہوتا نہیں کیونکہ وہ کسی معین فرد کو آواز نہیں دیتے۔ بلکہ در حقیقت اس فقرہ کے اندر آواز دینے والے کی نازک کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور جس کسی شخص کے کان میں آواز پڑتی ہے اُس سے یا پیل ہوتی ہے کہ وہ پکارنے والے کی مدد کرے اور اُسے مصیبت سے چھڑالے۔ یہ آواز ایسی طبعی چیز ہے کہ جانوروں تک میں بھی پائی جاتی ہے۔ اگر تم کووں کو پتھر مارتے ہو تو وہ کائیں کائیں کا شور مچاتے ہیں ۔ آخر کائیں کائیں کرنے کا پتھر مارنے سے کیا جوڑ ہے؟ کائیں کائیں کرنے کے یہی معنے ہیں کہ وہ مارے جارہے ہیں اور اگر کوئی ہستی قریب موجود ہے تو وہ اُن کی مدد و آئے اور مارنے والے سے انہیں بچائے۔ جب تم کتے کو مارنے کے لیے پتھر اٹھاتے ہو تو وہ چائیں چائیں کرنے لگ جاتا ہے۔ آخر چائیں چائیں کرنے کا پتھر اٹھانے یا ڈنڈا مارنے سے کیا تعلق ہے؟ چائیں چائیں کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ وہ آواز بلند کرتا ہے کہ اگر اس کا کوئی ساتھی قریب ہو تو وہ اُس کی مدد کو آئے ۔ تم بچے کو مارتے ہو تو وہ رونے لگ جاتا ہے اور روتا بھی آہستہ آواز سے نہیں بلکہ بلند آواز سے روتا ہے۔ اُس کے بلند آواز سے رونے کے بھی یہی معنے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی فریاد لوگوں تک پہنچاتا ہے کہ اگر اُن کے دل میں عدل ہے، انصاف ہے، رحم ہے، تو وہ اُس کی مدد کو آئیں ۔ پس کمزور اور مظلوم کا فریاد کرنا ایک طبعی بات ہے۔ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کسی شخص کے عیب کو بیان کرنا جائز نہیں ۔ سوائے مظلوم کے کہ وہ یہ شور مچائے کہ اُس پر ظلم کیا جارہا ہے 1 ۔ پس جانوروں کی شہادت اس بات پر موجود ہے، بچوں کی شہادت اس بات پر موجود ہے، بڑوں کی شہادت اس بات پر موجود ہے، قرآن کریم کی شہادت اس بات پر موجود ہے۔ پھر اور کس شہادت کی ضرورت ہے؟ پس ہماری جماعت جو دنیا بھر میں مظلوم ہے، جو اتنی بے بس اور بے کس ہے کہ اتنی بے کس اور بے بس جماعت دنیا میں کوئی نہیں ۔ جس کی مثال مسیح کے اس قول سے ملتی ہے کہ پرندوں کے لیے گھونسلے ہیں اور درندوں کے لیے بھٹ ہیں ۔ لیکن ابنِ آدم یعنی مسیح کے لیے سر چھپانے کی بھی کوئی جگہ نہیں 2۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہاری حالت چڑیوں ، فاختاؤں ، کبوتروں ، کووں ، بیٹروں اور چھوٹے سے ، چھوٹے جانوروں سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ اُن کے رہنے کے لیے کوئی نہ کوئی جگہ موجود ہے، اُن کا کوئی