خطبات محمود (جلد 34) — Page 94
1953ء 94 خطبات محمود وہ ہمیں مرزائی کہہ کر گالیاں دیتے ہیں تو اس سے صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی مراد نہیں ہوتے بلکہ اس میں سارے مغل آجاتے ہیں۔ چاہے وہ پاکستان کے ہوں ، ہندوستان کے ہوں یا سمرقند بخارا کے ہوں۔ اور اگر وہ ہمیں قادیانی کہتے ہیں تو قادیانی کے لفظ میں وہ سب مسلمان ، ہندو اور سکھ بھی آجاتے ہیں جو قادیان میں رہتے ہیں یا رہتے تھے۔ وہ بھی گالیاں دینے والوں سے لڑیں گے ۔ صلى الله صلى الله مال نہیں کرتے غرض مشرکین مکہ محمد رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتے وقت محمد ﷺ کا لفظ استعمال نہ تھے بلکہ مذمم کہا کرتے تھے اس لیے رسول کریم ﷺ نے فرمایا میرا نام تو محمد ہے ۔ مُذَمَّم نہیں ۔ اس لیے یہ لوگ مجھے گالیاں نہیں دے رہے۔ " اللہ " کا لفظ بھی اسی رنگ کا ہے۔ لفظ اللہ کے کوئی معنی نہیں ۔ یہ لفظ محض علم ہے ایک ہستی کے لیے۔ لیکن علمیت کے اعتبار سے یہ لفظ صرف ایک وجود پر دلالت نہیں کرتا بلکہ یہ ایک ایسی ذات کے لیے تجویز کیا گیا ہے جس میں کوئی عیب نہیں اور وہ تمام صفات حسنہ سے متصف ہے۔ اور جب اُس ذات کو تمام صفات حسنہ سے متصف تسلیم کیا گیا ہے تو وہ خالق بھی ہوگی ۔ اور جب خالق ہوگی تو اس کے معنی ہیں کہ جو چیز بھی چلے گی اُس کے بعد چلے گی ۔ پس اللہ کا لفظ دلالت کرتا ہے ایسی ہستی پر جو تمام صفات حسنہ سے متصف اور تمام عیوب سے پاک ہے۔ اب اگر خلق صفت حسنہ ہے تو وہ بھی اللہ میں پائی جائے گی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ روح و مادہ کا پیدا کرنے والا نہیں۔ اگر وہ روح اور مادہ کو پیدا کرنے والا نہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ روح و مادہ پیدا کرنا اچھی بات نہیں ۔ حالا ۔ حالانکہ خلق صفات حسنہ میں شامل ہے نقص پر دلالت نہیں کرتی ۔ پس روح و مادہ کو پیدا نہ کر سکنا ایک نقص ہے جو الوہیت کے منافی ہے۔ پس اگر اللہ ہے تو لا زما دنیا کی ساری چیزیں اُسی نے پیدا کی ہیں اور جب ساری چیزیں اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کی ہیں تو وہ اللہ کے بغیر کام کیا کر سکتی ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ نے ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے تو وہ کچھ دے گا تو وہ کام کریں گی ۔ مثلاً اگر میں کوئی مکان بناتا ہوں تو میں اُس میں دروازہ بناؤں گا تو بنے گا۔ میرے بنائے بغیر دروازہ نہیں بن سکتا۔ میں کھڑ کی بناؤں گا تو بنے گی۔ میرے بنائے بغیر کھڑ کی نہیں بن سکتی۔ میں اُس میں طاقچہ رکھوں گا تو طاقچہ رکھا جائے گا ۔ آپ ہی آپ طاقچہ نہیں رکھا جا سکتا ۔ میں روشندان بناؤں گا تو روشندان بنیں گے۔ میرے بنائے بغیر روشندان نہیں بن سکتے ۔ پس جب اللہ کے لفظ کے نیچے خلق کی صفت آگئی تو لازماً اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ اگر کوئی کام کرنا ہے تو اُسی نے کرنا ہے۔