خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 36

1952ء 36 خطبات محمود طرح سمجھتا ہے۔ اگر کوئی معاملہ وکالت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے تو وکیل ہی اسے زیادہ اچھی طرح سمجھتا ہے اور اگر کوئی معاملہ زراعت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے تو اسے زمیندار ہی زیادہ اچھی طرح سمجھتا ہے ۔ ہر زمیندار جانتا ہے کہ جہاں کہیں کوئی پیچ پڑتا ہے وہ اپنے آپ کو بڑھانے کی کوشش کی کرتا ہے۔ اگر کوئی غیر جنس کا یا ناقص قسم کا پودا کھیت میں نکل آتا ہے تو پھر سالہا سال تک اس کی مصیبت زمیندار کے گلے پڑی رہتی ہے۔ اُسے بار بار ہل چلانے پڑتے ہیں ۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح اس غیر جنس کو ضائع کر دے ۔ مثلاً دَب اُگ آتی ہے تو پھر زمیندار سالہا سال کی محنت کے بعد اسے صاف کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔ اور اگر کامیاب نہیں ہوتا تو بسا اوقات اسے وہ زمین چھوڑنی پڑتی ہے۔ اور وہ زمین کسی کام کی نہیں رہتی ۔ اسی طرح بعض دفعہ ایسے دانے جو خوراک کے کام نہیں آتے کھیت میں اُگنے لگ جاتے ہیں اور پھر ترقی کرتے کرتے فصل کو تباہ کر دیتے ہیں ۔ کوئی زمین افتادہ پڑی رہتی ہے تو اُس میں جھاڑیاں ، بیریاں ، پھلا ہیاں اور ڈیلوں کے درخت اُگنے شروع ہو جاتے ہیں ۔ اور سو دو سو سال کے بعد اگر کوئی نسل اسے آباد کرتی ہے تو اُسے وہ زمین اس طرح آباد کرنی پڑتی ہے جس طرح ہزاروں سال قبل ہمارے آباء واجداد کو آباد کرنی پڑی تھی ۔ اس سے ہر زمیندار سمجھ سکتا ہے کہ کسی چیز کی طاقت اور زندگی کی علامت یہ ہے کہ وہ آپ ہی آپ بڑھتی چلی جائے۔ ئے ۔ دوسرے پیشہ والوں کے سامنے یہ نظارہ بہت کم آتا ہے ۔ ایک تاجر جتنا آٹا خرید کر لاتا ہے وہ اتنا ہی رہتا ہے جتنا وہ خرید کر لاتا ہے وہ ۔ اتناہی ۔ بڑھتا نہیں ۔ وہ جتنا کپڑا خرید کر لاتا ہے وہ اتنا ہی رہتا ہے جتنا وہ خرید کر لاتا ہے وہ بڑھتا نہیں ۔ لیکن زمیندار کی ہر چیز بڑھتی ہے ۔ وہ کپاس کے بنولے خرید کر لاتا ہے تو وہ بھی بڑھتے ہیں ، وہ زمیندار کی ہر چیز ہے ۔ کے بولے خرید کر لاتا ہے تو وہ بھی بڑھتے ؟ ۔ وہ بنے دانے خرید کر لاتا ہے تو وہ بھی بڑھتے ہیں اور جہاں اُس کا دخل نہیں ہوتا وہاں بعض ایسی چیزیں اُگ آتی ہیں جو قدرتی طور پر بڑھتی چلی جاتی ہیں ۔ پس یہ زندگی کی علامت جتنی زمیندار کے سامنے آتی ہے اُتنی اور کسی پیشہ ور کے سامنے نہیں کی آتی ۔ وہ دیکھتا ہے کہ کس طرح قانون قدرت کے ماتحت ایک طاقت رکھنے والی چیز اپنے آپ کو بڑھانے پر مجبور ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے بھی اگر ایک زمیندار اپنے فرائض کے اہم حصہ یعنی تبلیغ میں سستی اور غفلت کرتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک دوسرے پیشہ وروں سے زیادہ مجرم ہے ۔