خطبات محمود (جلد 33) — Page 24
1952ء 24 خطبات محمود تیسری کوئی صورت ہو ہی نہیں سکتی ۔ اب اگر آپ نے انگریزوں کی خدمات نہیں کی تھیں تو پھر شور ہو ہی نہیں تو کیسا۔ اور اگر خدمات کی تھیں لیکن ان کا بدلہ لینے کے لئے آپ تیار نہیں تھے تو سیدھی بات ہے کہ گر خدمات کی تھیں لیکن ان کا بدلہ اور کی تیار تو وہ خدمات در اصل اسلام کی تھیں ، وہ خدمات خدا تعالیٰ کی تھیں اور اس نے ان کا بدلہ دے دیا۔ اس میں ناراضگی کی کون سی بات ہے ۔ کیا خدا تعالیٰ نے ان خدمات کا یہ بدلہ نہیں دیا کہ مولویوں کی انتہائی مخالفت کے باوجود حضرت مرزا صاحب اور ان کی جماعت بڑھتی چلی گئی؟ یہ بدلہ ہے جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمات کا دیا۔ پھر انگریز لوگوں کو دس ہیں مربعے دیتے تھے مگر خدا تعالیٰ کے صلہ کو دیکھو کہ ہزاروں وہ لوگ جنہیں انگریزوں نے مربعے دیئے تھے یا انگریزوں سے پہلے زمانہ کے وہ بڑے زمیندار تھے احمدیت میں داخل ہو گئے ۔ پٹھانوں ، مغلوں اور انگریزوں کی دی ہوئی زمینیں ہمیں مل گئیں ۔ ان کے احمدی ہو جانے کے یہ معنی ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کا مال ہے ان کا نہیں ۔ کیا انگریز یہ بدلہ دے سکتے تھے؟ ان کی دی ہوئی زمینیں تو اب حکومت چھین رہی ہے۔ حکومت نے یہ قانون پاس کر دیا ہے کہ ہر وہ زمین جو علاوہ اتو فوجی خدمات کے کسی اور خدمت کے صلہ میں انگریزی حکومت نے کسی کو دی ہو وہ چھین لی جائے ۔ لیکن ہماری زمینیں اور انعامات کوئی چھین تو لے؟ اس کا ایمان کے ساتھ تعلق ہے سچے احمدی کے پاس جو چیز ہوگی وہ احمدیت اور اسلام کی ہوگی ۔ یہی مضمون میں نے ایک قطعہ میں بیان کیا ہے جو مجھے رویا میں معلوم ہوا اور اب الفضل میں چھپ چکا ہے ۔ میں نے دیکھا کہ کراچی کا کوئی اخبار ہے جو کسی دوست نے مجھے بھیجا ہے۔ اور اس میں کچھ باتیں احمدیت کی تائید میں لکھی ہوئی ہیں ۔ اُس اخبار پر سرخ سیاہی سے اُس دوست نے نشان کر دیا ہے تاکہ میں اُس کو پڑھ سکوں ۔ میں نے وہ مضمون پڑھا ۔ اس مضمون کے نیچے چار کالموں میں چار قطعات دو دو شعر کے چھپے ہوئے ہیں اور اچھے موٹے موٹے حروف ۔ میں لکھے ہوئے ہیں۔ میں نے وہ قطعات پسند کئے اور چاہا کہ میں بھی ایک قطعہ لکھوں ۔ چنانچہ اور ۔ میں نے دو شعر کہے ۔ جوں ؟ ۔ جوں جوں میں شعر کہتا جاتا تھا وہ چھپتے چلے جاتے تھے ۔ وہ قطعہ یہ تھا ۔ میں آپ سے کہتا ہوں کہ حضرت لولاک ہوتے نہ اگر آپ تو بنتے نہ یہ افلاک