خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 332

1952ء 332 خطبات محمود کہ کا فر بے سوچے سمجھے کھاتا ہے لیکن مومن کے سامنے ہر قسم کی مشکلات ہوتی ہیں ، اس پر کئی ذمہ داریاں ہر ہوتی ہیں جن کو وہ کھاتے وقت مد نظر رکھتا ہے۔ اس لئے وہ ایک آنت میں کھاتا ہے ۔ پس جب ن کو وہ کھاتے وقت مدنظر ایسے دن آئیں تو اپنی غذا کم کر دو۔ در حقیقت جو غذا ہم کھاتے ہیں وہ ساری کی ساری ہضم نہیں ہوتی ۔ بعض میرے جیسے جسم غذا وہ ۔ والے لوگ بھی کھانے بیٹھیں تو پانچ پانچ سات سات روٹیاں کھا جاتے ہیں لیکن میں کبھی ایک روٹی کھاتا ہوں اور کبھی آدھ روٹی کھاتا ہوں پھر دیکھ لو میں زندہ ہوں ۔ اور جب میں ایک آدھ روٹی کھا کر زندہ رہ سکتا ہوں تو میرے جیسا دوسرا آدمی بھی اتنی غذا کھا کر کم سے کم چھ سات ماہ گزار سکتا ہے ۔ صرف فرق یہ ہے کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں بھوک زیادہ لگتی ہے۔ لیکن ہم کہیں گے جو میسر ہے وہ کھاؤ اور باقی پر صبر کرو ۔ اب دیکھ لو گندم میں بائیس روپے من ہے لیکن اگر لوگ آدھی غذا کھانا شروع کر دیں تو گندم گیارہ روپے فی من پر ان کے لئے ہو جائے گی ۔ پھر جو لوگ ملازم ہیں اُن کو سال کے شروع میں روپیہ مل گیا تھا اور انہوں نے گیارہ روپے فی من کے پیدل حساب سے گندم خرید لی تھی ۔ اگر وہ آدھی غذا کھانا شروع کر دیں تو اُن کی گندم کا خرچ چوتھا حصہ رہ جائے گا۔ گویا پانچ چھ روپے من انہیں گندم پڑ گئی اور قحط چھوڑ ان کے لئے آسانی پیدا ہو جائے گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم صحیح طریق اختیار نہیں کرتے ۔ اگر ہم صحیح طریق اختیار کریں تو کام بن جائے ۔ پھر میں نے گھروں میں دیکھا ہے کہ بالعموم آٹے کا دس فیصدی خرچ خشکہ کا ہوتا ہے ۔ بعض باورچی ایک تہائی زیادہ خرچ کر دیتے ہیں ۔ وہ زیادہ خشکہ لگاتے ہیں اور اپنے آرام کی خاطر آئے کا تیسرا حصہ ضائع کر دیتے ہیں۔ بعض لوگ بغیر خشکہ کے روٹی پکا لیتے ہیں۔ لیکن کم از کم انہیں زیادہ خشکہ تو نہیں لگانا چاہیے ۔ کم خشکہ لگانے میں زیادہ محنت ، وقت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے وہ زیادہ خشکہ کا استعمال کرتے ہیں ۔ پھر بعض اوقات کچھ حصہ کھانے کا ضائع ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ اس میں احتیاط کرتے ہیں تو لوگ انہیں بخیل کہتے ہیں لیکن اصل مد بر وہی ہوتے ہیں جو جتنا پکاتے ہیں کھا لیتے ہیں کھانا ضائع نہیں کرتے اگر ضرورت کے مطابق کھانا پکایا جائے تو بہت کچھ کفایت ہو سکتی ہے۔ بخیل آدمی ہمیشہ اس طرح کرتے ہیں ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ تم تکلیف کے وقت بھی ایسا نہ کرو۔ لیکن لوگ یہ چاہتے ہیں کہ انہیں قحط میں بھی اتنا آرام ملے جو تعیش اور آرام کے وقت میں بھی نہ ملتا ہو۔