خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 320

خطبات محمود 320 1952ء قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اڑھائی تین سو من فی ایکڑ گندم نکل سکتی ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد نہیں رہا۔ ایک دفعہ میں نے قرآن کریم پر غور کر کے شاید یہ عدد نکالا تھا۔ اُن دنوں ایک پروفیسر اس بات میں لگے ہوئے تھے کہ زمین میں جو مادے ہیں ان کے لحاظ سے ہم فی ایکڑ کتنی پیداوار نکال سکتے ہیں ۔ وہ کہتے تھے کہ ملک میں زراعت سے بے توجہی پائی جاتی ہے۔ اگر ذراسی کوشش کی جائے تو پیدا وار کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ وہ مجھے ملنے کے لئے آئے تو میں نے انہیں کہا قرآن کریم کی آیات پر غور کر کے میں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ فی ایکٹر تین سو من تک پیداوار کی جاسکتی ہے۔ وہ ہندو تھا لیکن میری یہ بات سن کر وہ دنگ رہ گیا اور اُس نے کہا ہماری نئی تحقیقات کے لحاظ سے بھی اندا اندازہ دوسومن سے او اوپر تک پہنچ گیا ہے۔ زمین میں جو کیمیکلز پائے جاتے ہیں انہیں اگر ہم پوری طرح استعمال میں لائیں تو اتنے من فی ایکڑ پیداوار ہو سکتی ہے ۔ اب سارے ملک کی اوسط پانچ من فی ایکڑ ہے اگر یہ پیداوار دگنی ہو جائے اور اوسط : اور اوسط پانچ منفی ایکڑ سے دس من فی ایکڑ ہو جائے تو کتنا فرق ہو جائے ۔ اور اگر یہ پیداوار پانچ من فی ایکڑ سے اڑھائی سو یا تین سومن فی ایکڑ ہو جائے تو دنیا میں غلہ کی جو کمی بیان کی جاتی ہے وہ یقیناً دور ہو جائے ۔ اس وقت لوگ پانچ من فی ایکڑ پیداوار پر گزارہ کر رہے ہیں ۔ اگر یہ پیداوار بڑھ کر اڑھائی سویا تین سومن فی ایکڑ ہو جائے تو دنیا کی آبادی کئی گنا بڑھ سکتی ہے ۔ اگر ہم صحیح طور پر اعت کریں اور قرآنی تعلیم ، سائنس اور تجربہ سے پورا فائدہ اٹھائیں اور غلہ بڑھائیں تو آبادی ایک کھرب بتیس ارب تک بڑھ سکتی ہے اور دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا ہوسکتا ہے ۔ پھر کئی غیر آباد علاقے ہیں انہیں آباد کیا جائے تو پیداوار میں اور بھی زیادتی ہو سکتی ہے ۔ مثلاً افریقہ کے علاقے ہیں جو ابھی غیر آباد پڑے ہیں ۔ آسٹریلیا اور کینیڈا کے علاقوں میں ابھی بہت کی کم آبادی ہے اگر اُن کی طرف توجہ کی جائے تو زمینداری بڑھ سکتی ہے۔ تم محنت کی عادت ڈالو۔ سؤر کی عادت ہوتی ہے کہ وہ سیدھا چلتا جاتا ہے وہ سامنے کے خطرات کو نہیں دیکھتا ۔ سؤر کا شکار کرنے والے نیزہ پکڑ کر رستہ پر بیٹھ جاتے ہیں سو رسیدھا آتا ہے اور اس پر نیزہ گر جاتا ہے ۔ ہے۔ لیکن چیتا ، شیر اور دوسرے جنگلی جانور خطرہ دیکھ کر رستہ سے ہٹ جاتے ہیں ۔ اسی طرح مومن بھی کی خطرات کا خیال رکھتا ہے اور وہ سور کی طرح سیدھا نہیں چلتا جاتا۔ یہ عادت گندے جانور کی ہے کہ وہ سیدھا چلا جاتا ہے ۔ پس سمجھدار نوجوانوں کا کام ہے کہ وہ اپنے ملک کے حالات اور ہے۔