خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 314

1952ء 314 خطبات محمود میں متواتر بخار چلتا رہا۔ ڈاکٹروں نے جیسا کہ اُن کی عادت ہوتی ہے اسے ملیر یا قرار دیا ہے ۔ چنانچہ میں نے کونین کھائی ، امبرین کھائی ، پلیو ڈرین کھائی، پلازما کونین کھائی۔ لیکن کسی دوا سے بھی فائدہ نہ ہوا ۔ چونکہ بخار ہلکا رہتا تھا اور متواتر رہتا تھا شروع میں چودہ چودہ پندرہ پندرہ یا سولہ سولہ گھنٹے متواتر بخار رہتا تھا اور سل دق میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ بخار ہر روز چڑھتا ہے اور شروع میں ہلکا بخار رہتا ہے۔ اس لئے گو ڈاکٹروں نے تو یہ کہا کہ سینہ صاف ہے اس میں کوئی تکلیف نہیں لیکن میں نے خود یہ خیال کیا کہ شاید سل کا کوئی شائبہ نہ ہو۔ چنانچہ میں نے تریاق سل کھانا شروع کیا۔ اور میں نے دیکھا کہ اس کے استعمال سے بخارا تر نا شروع ہو گیا اور پھر پندرہ ہیں دن تک بخار نہ ہوا چار پانچ دن ہوئے میں نماز کے لئے مسجد میں آگیا تو گھر جانے پر جسم میں تکان محسوس ہوئی اور میں نے خیال کیا کہ شاید بخار دوبارہ ہو گیا ہے۔ میں نے سمجھا کہ ایک عرصہ کے بعد میں نماز کے لئے مسجد میں چلا گیا ہوں ۔ لیکن دوسرے دن بخار زیادہ ہو گیا۔ میں نے پھر تریاق سل کا استعمال کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پرسوں میں نے تریاق سل“ کھائی اور کل بخار کم ہو گیا ۔ اسی طرح بخار کا وقت بھی کم ہو گیا۔ پہلے جب بخار ہوا تھا تو صبح آٹھ نو بجے بخار ہو جاتا تھا۔ بلکہ کبھی اس سے بھی پہلے بخار ہو جاتا تھا اور رات کو دس گیارہ بجے کے درمیان اُترتا تھا اس طرح پندرہ سولہ گھنٹے متواتر بخار رہتا تھا۔ بہر حال اس مجبوری کی وجہ سے میں اندر بیٹھ کر کرنے والے کام تو کر لیتا ہوں مگر یہ بیماری ایسی ہے کہ اس میں حرکت کر نا مضر ہوتا ہے اور اسے میں برداشت نہیں کر سکتا ۔ اس لئے میں مسجد میں نماز کے لئے نہیں آ سکتا کیونکہ اب اس کے لئے سیڑھیاں اترنا پڑتی ہیں ۔ مرض کے متعلق ابھی تو کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ سینہ صاف ہے لیکن سینہ کے علاوہ سیل کا مادہ بعض دوسرے اعضاء پر بھی حملہ کر دیتا ہے۔ چنانچہ سل کا اثر گلا پر بھی ہوتا ہے، انتڑیوں میں بھی سل ہوتی ہے۔ گلا پر اس کا اثر زیادہ نمایاں ہوتا ہے یعنی گلا بالکل بیٹھ جاتا ہے۔ لیکن میرا گلا ٹھیک ہے، اس میں کوئی تکلیف نہیں ۔ ہاں انتڑیوں میں اس کا اثر ہو سکتا ہے۔ کیونکہ مجھے اجابت کم ہوتی ہے۔ جلاب لیتا ہوں تو اجابت ہوتی ہے ورنہ نہیں ۔ بہر حال اس بیماری کے اثر کے نیچے اور کچھ اس خوف کی وجہ سے کہ یہ مرض بڑھ نہ جائے میں مسجد میں نہیں آسکا۔ کیونکہ پہلے تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ حرکت کر نامُضر ہے اور چونکہ خطرہ ہوتا ہے کہ مرض بڑھ نہ جائے اس لئے ہمت ہو بھی تو میں احتیاط کرتا ہوں مگر گھر میں بیٹھ کر جو کام کر سکتا ہوں