خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 304

1952ء 304 خطبات محمود ۔ اور آٹا پسوالاؤ۔ میرے پاس 50 ، 60 مہمان روزانہ آجاتے ہیں اور ان کے لئے آٹا مہیا کرنا گاؤں والوں کے لئے مشکل امر - امر ہے۔ اس نے کہا بہت اچھا۔ میں نے کہا آپ شام تک آٹا پسوا لائیں اور اگر شام تک نہ آسکیں تو کل صبح ضرور آٹا پسوالائیں ۔ اس نے کہا بہت اچھا شام کو آٹا نہ آیا میں نے کہا صبح آجائے گا۔ لیکن دوسرے دن میرے پاس باورچی آیا۔ اس نے کہا آٹا نہیں ہے۔ میں نے کہا مقامی احمدیوں کو تکلیف تو ہو گی لیکن آج کے لئے آٹا کا انتظام کر لو شام تک آٹا آجائے گا ۔ چنانچہ اُس دن گزارہ کیا گیا ۔ لیکن آٹا شام کو بھی نہ آیا ۔ تیسرے دن باورچی پھر آیا گیا۔ اور اس نے کہا آٹا نہیں ہے۔ میں نے کہا کوشش کرو کہ آٹا مہیا ہو جائے اور آج کا دن پھر گزارہ کر لو ۔ جب اڑھائی دن تک آٹا نہ آیا تو میں نے آدمی بھجوایا کہ اُس شخص کو تلاش کرو اور اُسے کہو ہیں چکیاں ہیں ، ایک گھنٹے کا کام ہے، اتنی دیر کیوں لگائی؟ بڑی تلاش کے بعد وہ شخص اُس کے گھر پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹا یا وہ باہر نہ آیا۔ آخر کا ر اُس کی بیٹی کو اٹھایا اور کہا اپنے باپ سے کہو حضرت صاحب بہت خفا ہو رہے ہیں کہ ابھی تک آٹا نہیں پسا ۔ اِس پر وہ شخص باہر نکلا اور کہا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ۔ فرمائیے کیا کام ہے؟ پیغا مبر نے کہا آپ کو تاکید کر کے بھیجا گیا تھا کہ شام تک پیغامبر آٹا پسوا کر لے آؤ۔ لیکن آج تیسرا دن ہے آپ واپس نہیں گئے ۔ کیا آٹا پس گیا ہے؟ اس نے کہا اسیں اجے غور کرنے آں ، یعنی ہم آٹا پسوانے کے متعلق ابھی غور کر رہے ہیں ۔ پس ایسا غور بھی نہ کرو۔ مگر ہر بات کو ضرور سوچو۔ جب تم یہ سوچو گے کہ یہ بے دینی کیوں ہے؟ ہر نفس میں کیوں شرارت ہوتی ہے؟ مایوسی کیوں ہوتی ہے؟ تمہارے لئے کیوں مصیبت پیدا ہو گئی ہے؟ اور تمہارے خلاف دشمن کو کیوں جرات ہو گئی ہے؟ تمہارے ہمسایہ میں کیوں کمزوری پیدا ہو گئی ہے؟ تو تم اپنا کام کر سکو گے ۔ تم راتوں کو غور کرو ۔ دن کو غور کرو ۔ اٹھتے بیٹھتے غور کرو اور سو چوانسان کا بہترین استاد اور بہترین رقیب اس کا اپنا نفس ہوتا ہے۔ تم اپنے نفس کو استاد بنالو اور اس سے سیکھنا شروع کر دو۔ اگر تم اپنے نفس کو استاد بنا کر اس سے سیکھنا شروع کر دو گے تو تمہیں لمبے خطبوں کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ تمہارے لئے ساتویں دن جمعہ نہیں ہوگا جمعہ بلکہ تمہارے لئے ہر وقت جمعہ ہوگا ۔ کیونکہ عقل اور نفس ہی بہتر رقیب اور بہتر استاد ہوتے ہیں ۔“ 66 الفضل 5 نومبر 1952 ء )