خطبات محمود (جلد 33) — Page 272
1952ء 272 خطبات محمود ہم نے یوں کہا ہے اس لئے یہ درست ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں وہ لوگ راست باز ہیں یا خدا تعالیٰ راست باز ہے؟ سیدھی بات ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ کہے گا وہی ہوگا ۔ اگر اس کے مقابلہ میں کروڑوں لوگ ایک بات کہیں تو اُس پر عمل نہیں ہوگا ۔ خدا تعالیٰ کہتا ہے دو گواہ لاؤ تو دو گواہ لئے جائیں گے۔ اگر ایک گواہ ہو چاہے وہ بہت بڑا وہ آدمی ہو تو اُسے قبول نہیں کیا جائے گا ۔ اگر خدا تعالیٰ کہتا ہے چار گواہ لاؤ تو چار گواہ ہی لئے کیا گا۔ اگر خدا لاؤ تو گواہ ہیں۔ جائیں گے ۔ اگر تم تین بادشاہ بھی لے آؤ تو اُن کی گواہی پر اعتبار نہیں کیا جائے گا ۔ پھر خدا تعالیٰ تو پر کیا ۔ نے گواہی کا جو طریق مقرر کیا ہے اُس طریق پر گواہی لی جائے گی ۔ یہ کہہ دینا کہ فلاں کمینہ ہے، گی۔ یہ فلاں ذلیل ہے محض بیہودہ بات ہے۔ اسلام میں کوئی کمینہ اور ذلیل نہیں ۔ حضرت رت ابو بکر جب خلیفہ ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ جب تک ایک طاقتور کو اُس کا حق نہ مل جائے اور جب تک ایک ضعیف کو اُس کا حق نہ مل جائے میں اُس کے لئے لڑوں گا ۔ اور اُس وقت تک لڑوں گا جب تک کہ انصاف قائم نہ ہو جائے 4۔ اگر ایک معزز شخص چور کی حیثیت میں کی عدالت میں پیش ہوتا ہے تو اس کی وہی حیثیت ہوگی جو بظاہر ایک کمینہ شخص کی ہوگی ۔ اسی طرح اگر ایک امیر شخص کسی کو تھپڑ مارے تو اسلام میں اُس کی وہی حیثیت ہو گی جو اس قسم کا جرم کرنے والے ایک غریب آدمی کی ہو گی ۔ ہو ۔ جبلہ بن ایم ایک امیر شخص تھا جو اپنے علاقہ کا بادشاہ تھا وہ مسلمان ہو گیا اور حج کے لئے مکہ آیا۔ وہ رستہ میں ایک مجلس میں بیٹھ گیا۔ عربوں میں رواج تھا کہ جتنا تہہ بندکسی کا بند کسی کا لٹک رہا ہو وہ اُتنا ہی معزز سمجھا جاتا تھا ۔ جیسے ہمارے علاقہ میں زمیندار لوگ تہہ بند لڑکا لیتے ہیں اسی طرح عرب لوگ بھی تہہ بند لمبا رکھتے تھے ۔ جبلہ بن ایم جب اس مجلس میں بیٹھا تو پاس سے گزرنے والے ایک غریب آدمی کا پاؤں اُس کے تہہ بند کے کنارے پر جا پڑا ۔ جبلہ اپنے آپ کو بادشاہ تصور کرتا تھا۔ اُس نے اس کو اپنی ہتک خیال کیا اور اُس شخص کو غصہ میں آ کر تھپڑ مار دیا۔ وہ غریب آدمی تھا خاموش ہو گیا اور شاید وہ اس لئے خاموش رہا کہ اُس نے خیال کیا کہ یہ شخص نیا نیا ہا اُس نے یہ حق نیا مسلمان ہوا ہے چلو خاموش رہو۔ لیکن جبلہ کا شکوہ تھپڑ مارنے کے بعد بھی پورا نہ ہوا ۔ وہ غصہ میں حضرت عمرؓ کے پاس آیا ۔ حضرت عمررؓ کو یہ واقعہ پہنچ چکا تھا لیکن آپ کو تفصیل کا علم نہیں تھا۔ جبلہ نے کی کہا عمر ! آپ کے لوگوں میں تہذیب بھی نہیں ، یہ لوگ شائستہ نہیں ، انہیں شائستگی سکھاؤ ، میں بڑا