خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 265

1952ء 265 خطبات محمود کے یہ نام بن سکے ۔ میں جس نتیجہ پر پہنچا ہوں وہ یہی ہے کہ لکھنے والے نے اپنا نام چھپایا ہے۔ پس سب سے پہلی یہی مشکل ہے جو اس نے میرے سامنے پیش کر دی ۔ یہ کم سے کم اس نے جو اپنا نام لکھا ہے اس سے میں نے یہی اثر قبول کیا ہے کہ اس نے اپنا نام چھپایا ہے۔ پس میرے لئے یہ امر مشکل ہو گیا ہے کہ میں اس شکایت کی تحقیقات کر سکوں ۔ اور مشکل بھی ایسا کہ میرے لئے کوئی چارہ نہیں کہ یا تو میں اس کی بات کو رد کر دوں یا قرآن کریم کو رد کر دوں ۔ اب سیدھی یا بات ہے کہ میں قرآن کریم کی بات کو رد نہیں کر سکتا ۔ میں اسی کی بات ہی کورڈ کروں گا ۔ رد ۔ را قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی شکایت پہنچتی ہے تو پہلے اس کی تحقیق کرو ۔ اور تحقیق کرنے سے پہلے یہ بات دیکھنی پڑتی ہے کہ شکایت کرنے والا کیسا ہے ، وہ مومن ہے یا فاسق ۔ اور اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ شکایت کرنے والے کا کیریکٹر مشتبہ ہے تو پھر تم اپنے طور پر اس خبر کی تحقیقات کرو اور تحقیقات کے بعد معلوم کرو کہ آیا جو کچھ وہ کہتا ہے وہ سچ ہے یا نہیں ۔ یہ قرآنی تعلیم ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَا فَتَبَيَّنُوا 1 - اگر تمہارے پاس کوئی فاسق شکایت لے کر آتا ہے اور وہ تمہارے سامنے کسی کے متعلق کوئی بُری بات کہتا ہے تو تم اس کی تحقیقات کرو پھر کوئی اور کارروائی کرو ۔ اب اس شخص نے جو بات بتائی ہے بظاہر نظر آتا ہے کہ وہ خود مجرم ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ کم سے کم اگر کوئی فاسق تمہارے پاس شکایت لے کر آتا ہے تو پہلے اُس کی تحقیق کر لو۔ تو اب اگر لکھنے والے نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا تو ہمیں یہ پتا کیسے لگے گا کہ وہ فاسق ہے یا مومن ۔ اس آیت میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ تم دیکھ لو کہ آیا شکایت کرنے والا جو شیلا اور لڑا کا تو نہیں ۔ آیا وہ معمولی سی بات کو بڑا تو نہیں بنا لیتا وہ بات بات پر جوش میں تو نہیں آجاتا ؟ کی فاسق کے معنی صرف بدکار کے ہی نہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عربی میں بد کار کو بھی فاسق کہہ لیتے ہیں۔ لیکن لغت کے لحاظ سے فاسق اُس شخص کو بھی کہتے ہیں جو تیز طبیعت ہو، بات بات کی پر لڑ پڑتا ہو ۔ فاسق عربی کا لفظ ہے اردو کا نہیں ۔ اور عربی میں اسکے مفہوم میں چھوٹی چھوٹی باتیں بھی آ جاتی ہیں۔ فسق کبھی بدکاری کے معنوں میں بھی آتا ہے اور کبھی اس کے معنی عدم اطاعت کے بھی ہوتے ہیں ۔ یہ لفظ وسیع المعانی ہے ۔ جس طرح مکر“ کا لفظ قرآن کریم میں کافروں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے ۔ اسی طرح فاسق کا لفظ