خطبات محمود (جلد 33) — Page 211
1952ء 211 خطبات محمود کو پانے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی اپنی مصیبت ٹلانے کو عبادت کا مقصد قرار دے لیتا ہے تو یہ نہایت پانے ادنی اور ذلیل بات ہے۔ اگر خدا خدا ہے، اگر مذہب مذہب ہے تو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں ساری نعماء حقیر ہیں ۔ اصل چیز خدا تعالیٰ کو خوش کرنا ہے۔ دنیا کو خوش کرنا اصل چیز نہیں ۔ خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے اُن قربانیوں کی ضرورت ہے جن سے خدا تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے ۔ لیکن ہمارے بعض نوجوانوں میں دین کی محبت کمزور ہے ۔ وہ نمازوں میں سست ہیں ۔ اس سے تمہاری نسل اور تمہارا خاندان خدا تعالیٰ کا قرب کیسے حاصل کر سکتا ہے۔ اگر تم اپنی اولاد کی تربیت نہیں کرتے تو تم خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے سے محروم رہ جاؤ گے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی مولوی برہان الدین صاحب مزاحیہ طبیعت رکھتے تھے۔ ان کی ساری زندگی نہایت سادگی میں گزری تھی ۔ ایک دن مولوی عبدالکریم صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے عرض کیا کہ مولوی برہان الدین صاحب ایک خواب سنانا چاہتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا سنا ئیں ۔ مولوی برہان الدین صاحب کہنے لگے میں نے خواب میں اپنی فوت شدہ ہمشیرہ کو دیکھا کہ وہ مجھ سے ملی ہیں ۔ میں نے اُن سے پوچھا بہن سناؤ تمہارا کیا حال ہے؟ کہنے لگی خدا نے بڑا فضل کیا ہے اُس نے مجھے بخش دیا ہے اور اب میں جنت میں آرام سے رہتی ہوں ۔ میں نے کہا بہن وہاں کرتی کیا ہو؟ کہنے لگی پیر بیچتی ہوں ۔ میں نے کہا بہن ہماری قسمت بھی عجیب ہے کہ ہمیں جنت میں بھی بیر ہی بیچنے پڑے۔ اس خواب کی تعبیر تو نہایت اعلیٰ تھی ۔ بیر جنت کا ایک پھل ہے اور اس سے مراد ایسی کامل محبت ہوتی ہے جو لازوال ہو۔ اور جنت کا پھل بیچنے کے یہ معنی تھے کہ میں اللہ تعالیٰ کی لازوال محبت لوگوں میں تقسیم کرتی پھرتی ہوں ۔ لیکن مولوی برہان الدین صاحب کا ذہن اس تعبیر کی طرف نہ گیا اور ظاہری الفاظ کے لحاظ سے انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ بیر بیچنا تو بڑی معیوب بات ہے۔ بہر حال یہ خواب سنا کر ان کی پر رقت طاری ہو گئی اور کہنے لگے حضور ! ہم سنا کرتے تھے کہ مسیح آئیں گے تو وہ شخص بڑا خوش قسمت ہوگا جو مسیح کو دیکھے گا۔ پھر ہم نے مسیح موعود کی آواز کو سنا ، آپ پر ایمان لائے ۔ پھر سنا کہ فلاں شخص آپ پر ایمان لایا اور اسے قرب کا مرتبہ مل گیا۔ اسے الہام ہونے لگے، اسے رؤیا و کشوف ہوتے ہیں ۔ اس پر ان کی چیخ نکل گئی اور کہنے لگے لیکن میں تے پھر بھی جھڈو دا جھڈو ہی رہیا۔“ مجھے آج تک پتا نہیں لگا کہ جھڈو کے کیا معنی ہیں ۔ لیکن جہاں تک اس کے مفہوم کا تعلق ہے