خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 206

1952ء 206 خطبات محمود ایک شخص آیا اور اس نے آپ کو قسم دے کر کہا کہ آیا خدا تعالیٰ نے آپ کو روزانہ پانچ نمازوں کا حکم دیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا ہاں ۔ اس نے پھر آپ کو قسم دے کر کہا کیا خدا تعالی نے آپ کو کی دیا ہے؟ تو نے فرمایا ہاں۔ اس نے پھر آپکو دے کر کہا کیا خداتعالی نے تیں روزوں کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔ اس نے پھر آپ کو قسم دے کر کہا کیا خدا تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ تم اپنے مالوں میں سے زکوۃ نکالا کرو؟ تو آپ نے فرمایا ہاں ۔ اس نے پھر کہا حکم کہ تم اپنے میںسے زکوۃ تو نے ہاں۔ نے پھر کا خدا تعالی نے یہ کم دیا ہے کہ اگ طاقت ہو تو تم حج کرو؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اس شخص نے کہا پھر میں بھی خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جتنی نمازیں فرض ہیں میں انہیں پورا کروں گا۔ جتنے روزے فرض ہیں میں رکھوں گا ، زکوۃ دوں گا اور اگر طاقت ہوئی تو حج کروں گا ۔ خدا کی قسم ! ! قسم ! میں نہ اس سے زیادہ کروں گا اور نہ کم ۔ آپ نے فرمایا اگر اس شخص نے اپنا عہد پورا کیا تو جنت میں چلا جائے گا 4 مگر یہ ایک ادنیٰ عہد ہے اور مومن صرف ادنیٰ عہد نہیں کرتا ۔ اسے یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے زیادہ قریب جائے اور قریب جانے کے لئے نوافل ادا کر نے ضروری ہوتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نوافل کے ذریعہ تم خدا تعالیٰ کے اتنے قریب ہو جاؤ گے کہ خدا تعالیٰ تمہاری آنکھیں بن جائے گا جن سے تم دیکھتے ہو ۔ خدا تعالیٰ تمہارے کان بن جائے گا جن سے تم سنتے ہو ۔ خدا تعالیٰ تمہارے ہاتھ بن جائے گا جن سے تم پکڑتے ہو۔ خدا تعالیٰ تمہارے پاؤں بن جائے گا جن سے تم چلتے ہو 5 ۔ و پس قرب کی راہیں نوافل سے کھلتی ہیں ۔ وہ شخص جس کی میں نے مثال دی ہے وہ بدوی تھا اس لئے حضرت ابو بکر نے ایسا نہیں کہا۔ یہ صحیح بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بدوی جنت میں داخل ہو جائے گا اگر اس نے اپنے عہد کو پورا کیا۔ لیکن خدا تعالیٰ کا مقرب وہی ہوگا جونوافل ادا کرتا ہے۔ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ نے یہ کبھی نہیں کہا کہ ہم صرف اتنا ہی کام کریں گے ۔ بلکہ حدیثوں سے پتا لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر یہ عرض کرتے تھے کہ یا رسول اللہ ! کوئی اور کام بتائیں یا رسول اللہ ! کوئی اور کام بتائیں ۔ بہر حال میں نے گزشتہ جمعہ یہ تحریک کی تھی کہ ربوہ والے دوسروں کے لئے نمونہ بنیں اور محلوں میں یہ تحریک کی جائے کہ لوگ نماز تہجد ادا کیا کریں۔ اور جو دوست اس بات کا عہد کر لیں کہ وہ نماز تہجد ادا کیا کریں گے اُن کے نام لکھ لئے جائیں ۔ مجھے جنرل پریذیڈنٹ کی طرف سے آج ایک ہفتہ کے بعد یہ رپورٹ ملی ہے کہ مختلف محلوں میں تحریک کی گئی ہے ۔ دار الصدر کے الف محلہ کے دوسو سے اوپر