خطبات محمود (جلد 33) — Page 184
1952ء 184 خطبات محمود دیکھنے کی کیا ضرورت ہے ۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ ساری ساری چیزیں چیزیں جنت جن میں میں پل مل جائیں جائیں گی گی اور جب ساری چیزیں جنت میں مل جائیں گی تو یہاں دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ تھی تو یہ درست بات ۔ لیکن یہ ایک طبعی جذبہ تھا جو حد سے نکل گیا تھا۔ ایک ماں اور ماؤں سے زیادہ محبت کرتی ہے تو ہم کہیں گے یہ طبعی جذبہ ہے جو حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے ۔ لیکن اگر ایک غیر ماں ، ماں سے زیادہ محبت کرتی ہے تو ہم اُسے طبعی جذ بہ نہیں کہتے بلکہ فریب یا فریب نفس کہتے ہیں ۔ مثل مشہور ہے ”ماں سے زیادہ چاہے کتنی کہلائے، یعنی اگر ایک غیر ماں، ماں سے زیادہ محبت کرتی ہے تو وہ ٹھگ ہے۔ لیکن اگر ایک ماں دوسری ماؤں سے زیادہ محبت کرتی ہے تو ہم اُسے ٹھگ نہیں کہتے۔ بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہے تو یہ طبعی جذ بہ لیکن اس جذبہ کے اظہار میں یہ عورت حد سے گزر گئی ہے اور شاید بیمار ہے ۔ گویا غیر طبعی جذ بھگی کہلاتا ہے۔ لیکن جب کوئی شخص کسی طبعی جذ بہ میں حد سے گزر جاتا ہے تو وہ ٹھگی نہیں کہلا تا بلکہ ایسا ہونا اس کی بیماری کی علامت ہوتا ہے۔ پس محبت الہی کا جذ بہ اگر غیر طبعی ہو جائے تو تمہاری جسمانی بیماری کی علامت تو کہلائے گا لیکن یہ تمہاری روحانی بیماری کی علامت نہیں ہوگا۔ لیکن اگر باوجود نماز ، روزہ ادا کرنے کے خدا تعالیٰ کی محبت کا جذبہ تم میں پیدا نہیں ہوتا تو یہ تمہاری روحانی بیماری اور منافقت کی علامت سمجھا جائے گا۔ خدا تعالیٰ کی محبت ، خدا تعالیٰ پر یقین اور وثوق پیدا کرنا اور اُسے ملنے کی کوشش کرنا ایک طبعی جذ بہ ہے لیکن کتنے نو جوان ہیں جو ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی فرمایا تھا اُس وقت ہر انسان کا ایک ہی مقصد تھا کہ وہ آپ کے ذریعہ خدا تعالیٰ کو ملے گا ۔ وہ لوگ آگے بڑھتے تھے کیونکہ ان میں سے ہر ایک یہ سمجھتا تھا کہ اگر کسی چیز نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دوسرے علماء پر امتیاز دیا ہے تو وہ یہی چیز ہے کہ آپ کی پیروی کرنے سے خدا ملتا ہے۔ مسائل دوسرے علماء بھی جانتے ہیں ۔ اگر آپ کی وجہ سے کوئی فرق پیدا ہوا ہے تو وہ یہی ہے کہ آپ کی پیروی سے خدا تعالیٰ سے ملتا ہے۔ آپ کا دعوی کی ہے کہ خدا تعالیٰ کو ملنے کا دروازہ کھلا ہے بند نہیں۔ لیکن اب کتنے نوجوان ہیں جو خدا تعالیٰ کو ملنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جتنا وقت دور ہوتا جاتا ہے لوگوں سے یہ خواہش مٹتی جاتی ہے حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ ہمت اور کوشش سے اس جذبہ کو ابھارا جاتا۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا آنا بھی بیکار ہے۔