خطبات محمود (جلد 33) — Page 163
1952ء 163 خطبات محمود کے ختم ہونے تک برا بر دعا میں لگا ر ہے ۔ کہنے کو تو ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ بڑا آسان گر ہے لیکن برابر ہے۔ کہنے سکتا ہے کہ یہ بڑا گر ہے حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کو گر کہا جاتا ہے کروڑوں میں سے ایک شخص بھی اسے پورا کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ بہر حال یہ دن بھی اُن دنوں میں سے ہے جن میں دعا قبول ہوتی ہے۔ ادھر رمضان کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان ایام میں دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔ جو لوگ راتوں کو اٹھتے ہیں خدا تعالیٰ ان کے قریب ہو جاتا ہے اور ان کی مشکلات کو دور کر دیتا ہے۔ غرض رمضان کے ایام بھی ایسے ہیں جن میں دعائیں قبول ہوتی ہیں خصوصا لیلتہ القدر میں دعاؤں کی قبولیت کا قرآن کریم میں وعدہ کیا گیا ہے۔ اس رات کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ سَلْمٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ - 3 یعنی سورج ڈوبنے سے لے کر صبح تک کلام الہی لانے والے فرشتے اترتے رہتے ہیں ۔ سلامتی ، رحمتیں اور برکتیں بنی نوع انسان پر چھا جاتی ہیں ۔ غرض جمعہ اور رمضان دونوں اپنے اندر برکتیں رکھتے ہیں۔ لیکن اگر جمعہ اور رمضان دونوں جمع ہو جائیں تم سمجھ سکتے ہو کہ اُس وقت کتنی برکات کا اجتماع ہو جائے گا ۔ آج جمعہ بھی ہے اور رمضان بھی ہے۔ پنجابی میں مثل ہے ۔ ”چپڑی پھر دو دو اور کیا چاہیے۔ ہمارا ملک غریب تھا لوگ سمجھتے تھے کہ چپڑی ہوئی روٹی ایک ہی مل سکتی ہے دو نہیں ۔ اس لئے یہ مثل بن گئی کہ روٹی چپڑی ہوئی ہو اور پھر دو دو مل جائیں تو اور کیا چاہیے ۔ اگر ایک شخص کو دو چپڑی ہوئی روٹیاں مل جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے مجھے اور کیا چاہیے۔ اسی طرح جسے قبولیت دعا کے دو مواقع مل جائیں اسے اور کیا چاہیے ۔ رمضان کی اس دفعہ بندش کچھ ایسی ہے کہ اس میں چار جمعے آئیں گے۔ بعض سالوں میں رمضان میں پانچ پانچ جمعے بھی آجاتے ہیں ۔ مثلاً مہینہ جمعہ یا ہفتہ سے شروع ہو گیا تو ہیں۔ مثلا مہینہ جمعہ یا اس میں پانچ جمعے بھی آ جاتے ہیں۔ لیکن اس سال رمضان میں پانچ جمعے نہیں آئیں گے چار آئیں گے اور ان کے علاوہ باقی ایام بھی برکت والے ہوتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ انسان ان ایام سے فائدہ اٹھائے ۔ کئی لوگ ہوتے ہیں کہ ان پر برکتوں کے دن آتے ہیں لیکن وہ ان سے فائدہ اٹھانے کی توفیق نہیں رکھتے ۔ مثلاً نا بالغ بچے ہیں ان پر روزے فرض نہیں اور نہ وہ روزے رکھ سکتے ہیں ۔ یا بوڑھے ہیں ان کے قومی انہیں جواب دے چکے ہوتے ہیں ۔