خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 156

1952ء 156 خطبات محمود جاتی ہے۔ سندھ میں ہم 60 فیصدی تک زمین بو سکتے ہیں لیکن یہاں 110 فیصدی تک عام زمین بوئی جاتی ہے ۔ لائل پور میں 150 فیصدی تک زمین بوئی جاتی ہے ۔ گویا ایک ایکڑ کو سال میں ایک سے زیادہ چکر دیئے جاتے ہیں ۔ ترکاریوں اور چارے وغیرہ وغیرہ کی کی فصلوں کو ملالیا ملا لیا جائے تو تو کی سرگودھا ، لائل پور وغیرہ میں سال میں ایک ایکڑ سے دو فصل بلکہ بعض اوقات اس سے زیادہ فصل بھی لئے جاتے ہیں ۔ جب ہم قیمت لگاتے ہیں تو 66 فیصدی کی لگاتے ہیں لیکن جو شخص 150 یا 160 فیصدی زمین ہوتا ہے وہ تو دُگنی آمد پیدا کر لیتا ہے۔ بلکہ درحقیقت وہ اس سے بھی زیادہ آمد پیدا کر لیتا ہے کیونکہ جو اندازہ ہم نے 66% کاشت کا لگایا ہے اس میں خرچ اکثر شامل ہو گئے ہیں ۔ مثلاً کام کرنے والے کی مزدوری اور بیل وغیرہ کا خرچ جو سب سے بڑا ہے ہم نے شامل کر لیا ہے ۔ پس اس سے اوپر کی آمد زائد آمدن ہو گی ۔ خرچ اس میں سے نہ نکالا جائے گا۔ بظاہر حالات آئندہ کپاس کی قیمت پچیس تیس روپیہ فی من تک آ جائے گی ۔ لیکن جن لوگوں نے اُس وقت سُستی کی جب کپاس کی قیمت 40 ، 50 روپیہ فی من تھی جب کپاس کی قیمت 25 ، 30 روپیہ فی من پر آگئی تو ان کا کیا حال ہوگا ۔ میں سرگودھا کی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ ایک زمانہ تھا جب کپاس کی قیمت دس پندرہ روپیہ فی من تھی ۔ اُس وقت قربانی میں تم پیچھے نہیں تھے ۔ تمہارے اندر اُس وقت اخلاص پایا جاتا تھا۔ جب تمہاری آمدن موجودہ آمد سے ایک چوتھائی تھی اُس وقت تم اپنا بوجھ اٹھاتے تھے پھر کیا وجہ ہے کہ تم اب سستی کر رہے ہو۔ اس وقت جبکہ مرکز تمہارے قریب آگیا ہے اگر چہ مرکز ضلع جھنگ میں ہے لیکن دراصل یہ سرگودھا کا ہی ایک حصہ ہے کیونکہ یہ چناب کے پار ہے۔ اور اس طرف ضلع جھنگ کی صرف ایک سب تحصیل ہی ہے ۔ پس با وجود اس کے کہ مرکز تمہارے قریب ہے، باوجود اس کے کہ تنظیم بہتر ہو گئی ہے کیونکہ پہلے امراء اور افسر اس قدر اعلیٰ درجہ کی قربانی کرنے والے نہیں تھے جتنی قربانی کرنے والے افسراب ہیں ۔ اگر آپ کے چندہ کی نسبت 10 فیصدی یا پندرہ فیصدی تک آگئی ہے تو یہ نہایت خطرہ کا مقام ہے ۔ تم اپنی اصلاح کرو اور قربانی کی صحیح روح اپنے اندر پیدا کرو۔ اور ہر جماعت کو سو فیصدی کی جگہ ایک سو دس یا ایک سو بیس فیصدی مرزا عبد الحق صاحب امیر جماعت سرگودھا مجھے اس کے بعد ملے اور انہوں نے بتایا کہ یہ نقشہ غلط چھپا ہے۔ اس میں سالہا سال گزشتہ کے بقائے بھی درج کر دیئے گئے ہیں۔ اصل میں وصولی سیاسی فیصدی ہے۔