خطبات محمود (جلد 33) — Page 146
1952ء 146 خطبات محمود پس اس کے دل میں قربانی کرنے سے انقباض پیدا ہو گا اور وہ خیال کرے گا کہ میں تو گھاٹے میں رہا۔ جب اس کے دل میں انقباض پیدا ہو گا تو اگر مومن ہوگا تو اُسے فوراً پتا لگ جائے گا کہ ۔ میرا ایمان کامل نہیں کیونکہ میں نے یہ نفع اپنے پاس سے نہیں دینا تھا بلکہ خدا تعالیٰ پر چھوڑا تھا کہ وہ جس کو چاہے میرے پاس لے آئے ۔ خدا تعالیٰ اپنے حصہ کو پہلے لے آیا اور مجھے بُرا لگا ۔ پس معلوم ہوا کہ میں خدا سے خوش نہیں ۔ چنانچہ اگر اُس کے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف ہوگا تو وہ لازماً اپنی اصلاح کی کوشش کرے گا اور جب وہ اپنی اصلاح کرلے گا تو خدا تعالیٰ اس کے پہلے سودے وہ بھی اچھے کر دے گا اور اس کے بعد کے سودوں میں بھی برکت رکھ دے گا ۔ اسی طرح میں نے تحریک کی تھی کہ خوشی کی مختلف تقاریب پر مسجد فنڈ کے لئے کچھ نہ کچھ دیتے رہنا چاہیئے ۔ مثلاً کسی کی شادی ہوئی ہے تو وہ اس خوشی میں حسب توفیق کچھ چندہ مساجد کے لئے دے دے۔ کسی کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے تو وہ اس خوشی میں کچھ دے دے۔ کسی نے مکان بنایا ہے یا بنوانے لگا ہے تو اس خوشی میں کچھ دے دے ۔ اگر اس نے پانچ ہزار روپے میں مکان بنایا ہے تو پانچ دس روپے خدا کے گھر کے لئے دے دینا اس کے لئے کون سی بڑی بات ہے ۔ ہمارا خدا ہم پر بے انتہا احسانات کرتا ہے مگر اس نے اپنا حصہ اتنا تھوڑا رکھا ہوا ہے کہ اگر انسان غور کرے تو اسے شرم آجاتی ہے۔ چوبیس گھنٹہ میں نماز اور ذکر الہی پر جتنا وقت صرف ہوتا ہے اگر تم اس کا حساب کرو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ محض سونے کا وقت جس کے متعلق ہر شخص سمجھتا ہے کہ وہ ضائع چلا گیا ہے ۔ وہ بھی نماز اور ذکر الہی کے وقت سے زیادہ ہے۔ غرض اور کام تو الگ رہے انسان کے سونے کا وقت بھی زیادہ ہے اور نماز روزے کا وقت اس کے مقابلہ میں بہت کم ہے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنا حق بہت ہی چھوٹا کر کے رکھا ہے ۔ اگر اس چھوٹے سے حق کے دینے میں بھی ہمارے دلوں میں انقباض پیدا ہو تو یہ ہماری بڑی بد قسمتی کی علامت ہے ۔ کوشش تو ہماری یہ ہونی چاہیے کہ ہم اپنی ترقی کے قدم کو بڑھاتے چلے جائیں اور قربانیوں کے نئے نئے رستے سوچیں تا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل ہو۔ نہ یہ کہ جو رستے ہمارے سامنے آئیں اُن پر بھی چلنے کی ہم کوشش نہ کریں ۔ صحابہ کی طرف دیکھو۔ حضرت ابو ہریرہ جن سے ہزاروں حدیثیں مروی ہیں وہ آخری کی دنوں میں مسلمان ہوئے تھے۔ ان سے پہلے کوئی صحابی بارہ سال سے ایمان لا چکے تھے، کوئی