خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 130

1952ء 130 خطبات محمود شہر تھا، ہزاروں ہزار مسلمان کھڑا ہو گیا اور انہوں نے قسمیں کھائیں کہ ہم واپس نہیں لوٹیں گے جب تک مسلمان عورت کو آزاد نہ کرائیں ۔ جب یہ خبر ارد گرد پھیلی تو وہی آزاد حکومتیں جو اس بات ۔ پر خلیفہ سے جھگڑ رہی تھیں کہ تم کون ہوتے ہو ہم پر حکومت کرنے والے ! ہم آزاد ہیں اُنہی کی طرف سے پیغام آنے شروع ہو گئے کہ ہم اپنی فوجیں آپ کی مدد کے لئے بھجوا رہے ہیں۔ چنانچہ اسلامی لشکر گیا اور عیسائیوں سے لڑا اور اس عورت کو آزاد کرا لیا تو ایک زمانہ وہ تھا جب مسلمان اتنی بڑی طاقت کا مالک تھا مگر آج مسلمان کی یہ حالت ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ ذلیل اس کو سمجھا جاتا ہے ۔ اگر وہی کیفیت جو آج مسلمانوں کی ہے۔ یکدم ان پر وارد ہو جاتی تو میں سمجھتا ہوں کہ شاید ان میں سے ایک بھی نہ بچتا ساروں کی جان نکل جاتی ۔ ہٹلر کو دیکھ لو چونکہ وہ یکدم گرا تھا اس لئے خود کشی کر کے مر گیا ۔ اُس سے یہ برداشت نہ ہو سکا کہ گجا میری یہ حالت تھی کہ مجھے جرمنی پر حکومت حاصل تھی اور حکومت بھی استبداد والی اور کجا یہ کہ اب مجھے روسیوں اور امریکنوں کی غلامی اختیار کرنی پڑے گی ۔ یہ چیز اُس کی طاقت برداشت سے باہر ہو گئی اور وہ مر گیا ۔ اسی طرح ہزاروں ہزار واقعات دنیا میں نظر آتے ہیں کہ جب لوگوں کی طاقت برداشت سے کوئی بات بڑھ گئی تو وہ خود کشی کر کے مر گئے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر یکدم مسلمانوں کی یہ حالت ہو جاتی تو شاید کچھ ہی لوگ جو بہت ہی بے غیرت ہوتے بچ جاتے باقی سب کے سب مر جاتے ۔ اگر مامون اور امین کے زمانہ سے حالات یکدم گر کر آج کی حالت پیدا ہو جاتی تو نوے پچانوے فیصدی مسلمان تو ضرور اس صدمہ سے مر جاتے ۔ وہ خودکشی تو نہ کرتے کیونکہ خودکشی اسلام میں منع ہے مگر وہ مرضرور جاتے ۔ روه مر ضرور لیکن چونکہ وہ آہستہ آہستہ گرے، باپ کی حالت سے بیٹے کی حالت کمزور ہو گئی اور بیٹے کی حالت ہوگئی اور سے پوتے کی حالت گر گئی اس لئے ان میں طاقت برداشت بھی پیدا ہوتی چلی گئی ۔ یہاں تک کہ آج مسلمان اس حالت کو پہنچ گیا ہے کہ اس کی عزت اور ناموس کی کوئی قیمت نہیں رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ آج ہماری جماعت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو ترقی کا ایک نیا موقع بخشا گیا ہے ان میں وہ بیداری نہیں پائی جاتی جو زندہ اور فعال جماعتوں میں پائی جانی چاہیئے ۔ ان میں وہ جنون نہیں پایا جاتا جو دنیا کو کھا جانے والی قوموں میں پایا جاتا ہے۔ ان