خطبات محمود (جلد 33) — Page 119
1952ء 119 خطبات محمود عالم میں مُردوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور اور مادیت میں مُردہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے مردوں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ پنے عالم میں چنانچہ دیکھ لو مسلمانوں میں آجکل جتنے ذکر کرنے والے، زاویوں میں بیٹھ کر عبادتیں کرنے والے اور قرآن کریم پڑھنے والے لوگ ہیں وہ روحانیت سے یکسر خالی ہیں ۔اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ذکرِ الٰہی نہیں کرتے ۔ وہ اب بھی ذکر کرتے ہیں ، وہ اب بھی مسجدوں میں عبادتیں کرتے ہیں ، وہ اب بھی زاویوں میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہیں مگر انہیں خدا نہیں ملا ۔ پس روحانی لحاظ سے وہ مردہ ہیں ۔ اسی طرح دنیوی لحاظ سے افریقہ کے وحشی قبائل یا ایشیا کے وہ ممالک جو تنزل میں گرے ہوئے ہیں وہ بھی دنیا کمانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ مگر ایسے بے علم اور غافل ہیں کہ دنیوی ترقی کے لحاظ سے وہ مردہ ہیں ۔ - اگر ہم یورپ کو دیکھیں ، اگر ہم امریکہ کو دیکھیں ، اگر ہم اُن کی ترقی کو دیکھیں اور اس کے مقابلہ میں ان لوگوں کو دیکھیں تو یہ محض مُردہ نظر آتے ہیں ۔ اس کی یہ وجہ نہیں کہ یہ لوگ دنیا کمانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ وجہ یہ ہے کہ دنیا کمانے کے لئے جس غور اور فکر اور تدبیر کی ضرورت ہے اس سے وہ کام نہیں لیتے ۔ اسی طرح روحانی عالم کے مولویوں اور پنڈتوں کو دیکھیں تو وہ محض مردہ نظر آتے ہیں ۔ اس لئے نہیں کہ وہ دنیا میں لگے ہوئے ہیں بلکہ اس لئے کہ گو وہ دین کے کام میں لگے ہوئے ہیں مگر اس کے لئے جس غور اور فکر کی ضرورت تھی ، کا ئنات عالم کے جن اسرار کے معلوم کرنے کی ضرورت تھی، ارتقائی میدانوں میں جس سُرعت سے آگے بڑھنے کی ضرورت تھی اس سے وہ یکسر غافل اور لا پرواہ ہیں ۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمُوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَتِ لِأُولِى الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمُوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔ زمین و آسمان کی پیدائش اور لیل و نہار کا اختلاف یعنی اُس کا آگے پیچھے آنا ہم اس میں عقلمند لوگوں کے لئے بڑے کی بڑے نشانات ہیں ۔ وہ سوچتے ہیں کہ یہ دنیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی ہے اور آسمان بنایا ہے۔ یعنی کچھ سماوی طاقتیں ہیں اور کچھ ارضی طاقتیں ہیں، کچھ بلندیاں ہیں اور کچھ نشیب یہاں اختلاف سے مراد تفاوت نہیں بلکہ آگے پیچھے آنا ہے۔