خطبات محمود (جلد 33) — Page 117
1952ء 117 خطبات محمود کبوتروں میں ، پلیوں میں ، سب میں کوئی نہ کوئی بولی پائی جاتی ہے۔ لی پانی جاتی ہے ۔ ۔ یہی جو فرق ہے انسان میں اور اُن میں وہ یہ ہے کہ انسان فکر کر کے اپنے لئے ترقی کا ایک نیا وہ یہ ہے کہ فکر کرکے لئے میدان تجویز کر لیتا ہے اور وہ ہر فکر کے بعد پہلی سطح سے اونچا چلا جاتا ہے۔ لیکن دوسرے جانوروں میں یہ بات نمایاں طور پر نہیں پائی جاتی ۔ تھوڑی بہت ایجادیں ان میں بھی نظر آتی ہیں جیسے او ر بلاؤ 2 ہیں ۔ ان کے گھروں کی ساخت کو دیکھا جائے تو پہلے زمانوں کے لحاظ سے ان میں کسی قدر فرق پایا جاتا ہے۔ کسی حد تک ان میں طب بھی پائی جاتی ہے۔ وہ زخمی ہوتے ہیں تو علاج کرتے ہیں ۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ابتدائے عالم سے یہ بات ان میں چلی آرہی ہے ۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ غور اور فکر کے بعد انہوں نے کسی حد تک ارتقاء کی طرف اپنا قدم بڑھایا ہے ۔ ہم بچے تھے تو ہم نے ایک فاختہ ماری ۔ جب میں نے اسے اٹھایا تو مجھے اُس کے پیٹ پر کوئی سخت سی چیز معلوم ہوئی ۔ جب میں نے اسے دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس فاختہ کو کوئی زخم لگا تھا جس کو تنکے کی چھال کے ساتھ سیا گیا تھا ۔ گویا جس طرح ڈاکٹر ایک گہرے زخم کو سیتا ہے اُسی طرح اُس فاختہ یا اُس کے کسی ساتھی نے اس زخم کو سیا تھا اور وہ زخم اُس وقت اچھا ہو چکا تھا۔ صرف تنکا باقی تھا۔ تو جانوروں میں بھی ایک حد تک ترقی تو ہے مگر وہ اتنی محدود ہے کہ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ اور انسان کی ترقی اتنی غیر محدود ہے کہ اس کی ترقی کے متعلق یہ اندازہ لگانا کہ وہ کس سرعت سے ہو رہی ہے یہ بھی مشکل ہے ۔ گویا جہاں جانوروں کے متعلق یہ پتا لگا نا سخت مشکل ہوتا ہے کہ انہوں نے ترقی کی ہے یا نہیں وہاں انسان کے متعلق یہ اندازاہ لگا ناسخت مشکل ہے کہ وہ کتنا ترقی کر چکا ہے اور اس کا پہلا قدم کتنا پیچھے رہ چکا ہے۔ پس اصل چیز جو انسان کو دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتی ہے وہ اُس کی قوت فکر ہے ۔ وہ غور کرتا ہے، وہ کائناتِ عالم کے اسرار کے متعلق فکر کرتا ہے، وہ ان سے بعض نتائج اخذ کرتا ہے اور پھر نتائج کے استنباط کے نتیجہ میں وہ اپنے فکر کی سطح کو ، اپنے اخلاق کی سطح کو ، اپنے ماحول کی سطح کو ، اپنے تمدن کی سطح کو اور اپنے تعیش کی سطح کو اور اونچا کر دیتا ہے۔ پھر وہ اور زیادہ غور شروع کرتا ہے۔ پھر نئے زاویوں سے کائنات کے رازوں کی جستجو کرتا ہے۔ پھر وہ اور زیادہ تحقیق اور تجسس سے کام لیتا ہے اور اس سطح کو اور زیادہ اونچا کر دیتا ہے۔ صرف نیک اور بد میں ، مومن اور کافر میں یہ امتیاز ہوتا ہے کہ ارتقائی قدم تو دونوں ہی اٹھاتے ہیں ، ترقی کی طرف تو دونوں ہی جا رہے ہوتے ہیں اور قوتِ فکریہ کے لحاظ