خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 68

1951ء 68 خطبات محمود ہوگئی ہو، اُس کا گوشت گھل گیا ہو اور ہڈیاں نکل آئی ہوں لیکن ادھر بچہ رویا اور اُدھر ماں نے اپنے سوکھے ہوئے پستان اُس کے منہ میں دے دیئے۔ خواہ پستانوں میں دودھ کا کوئی قطرہ ہو یا نہ ہو۔ ماں کے اندر یہ جذبہ جس ہستی نے پیدا کیا ہے وہ بچہ کو نظر نہیں آتی ۔ اس لیے وہ اُس سے محبت نہیں کرتا۔ ماں اپنی چھاتیوں سے دودھ پلاتی ہوئی اُسے نظر آتی ہے اس لیے وہ اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔ انسان کھانا کھاتا ہے جس شخص نے اسے گندم دی اور اس نے اس سے روٹی بنائی وہ اس کا شکریہ ادا کرتا ہے یا جس کی نوکری کر کے اس نے پیسے کمائے اور ان سے اس نے گندم خریدی وہ اس کا شکریہ ادا کرتا ہے، جس ماں اور بیوی نے اسے روٹی پکا کر کھلائی وہ اس کا شکریہ ادا کرتا ہے لیکن جس نے گندم بنائی ، جس نے نمک بنایا ، جس نے پانی بنایا وہ اُس کا شکر یہ ادا نہیں کرتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ گندم مہیا کرنے والا یا نوکری دینے والا اسے نظر آتا تھا ، ماں اُسے نظر آتی تھی کہ وہ گرمی کے دنوں میں آگ کے آگے بیٹھی روٹی پکا رہی ہے، بیوی اُسے نظر آتی ہے کہ گرمی میں آگ کے آگے بیٹھی روٹی پکا رہی ہے۔ یا سردی میں جب وہ خود لحاف سے باہر نہیں نکلتا وہ صحن میں بیٹھی اُس کے لیے ناشتہ تیار کر رہی ہے چونکہ وہ اُسے نظر آتی ہے اس لیے اس کے اندر احساس شکر یہ پیدا ہو جاتا ہے جُبِلَتِ الْقُلُوبُ عَلَى حُبِّ مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْهَا ۔ خدا تعالیٰ نے انسان کے دل میں یہ مادہ رکھ دیا ہے کہ اسے جو شخص احسان کرتا نظر آتا ہے اس کا وہ شکر گزار ہوتا ہے۔ اور چونکہ اُسے اس احسان کا اصل بانی نظر نہیں آتا اس لیے اُسے یہ خیال نہیں آتا کہ دراصل یہ احسان کسی اور ذات نے کیا ہے۔ رواج ہمارے ملک میں لطیفہ مشہور ہے وَ اللهُ اَعْلَمُ وہ سچا ہے یا عام حالات میں وہ خود بنالیا گیا ہے۔ جب ہمارے ملک پر انگریز حاکم تھے لوگوں میں انہیں خوش کرنے کے لیے ڈالیاں پیش کرنے کا تھا۔ بعد میں اگر چہ یہ قانون بنا دیا گیا تھا کہ افسروں کو ڈالیاں پیش نہ کی جائیں لیکن حکام اور رؤساء شہر کو جب موقع ملتا اور وہ انگریز افسروں کو ملنے کے لیے جاتے تو اُن میں سے بعض ہوشیار لوگ ڈالیاں بھی لے جاتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ایک انگریز افسر کو ایک ای۔ اے سی اور ایک تحصیلدار ملنے کے لیے گئے ۔ ای اے سی ڈالی بھی ساتھ لے گیا۔ یہ تو سارے جانتے ہیں کہ ای اے سی بڑا ہوتا ہے اور تحصیلدار چھوٹا ہوتا ہے ۔ کئی علاقوں کا چارج ای اے سی کے پاس ہوتا ہے اور تحصیلدار اُس کے ماتحت ہوتا ہے۔ پس جب وہ دونوں ملاقات کے لیے گئے تو اتفاقاً انگریز افسر کے پاس