خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 24

1951ء 24 خطبات محمود ساٹھ کروڑ ہیں۔ ساٹھ کروڑ اور اڑھائی تین لاکھ کی آپس میں کوئی بھی تو نسبت نہیں ۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ ہم سے دو ہزار چار سو گئے زیادہ ہیں۔ اور پھر یہ زیادتی تو تعداد افراد کے لحاظ سے ہے مالی طاقت اور وسعت کو دیکھا جائے تو وہ ہم سے کئی گنا بڑھ کر ہیں ۔ ہم ایک غریب جماعت ہیں اور وہ اپنے ساتھ بادشاہتیں رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے تو درحقیقت وہ ہم سے دس گنا بڑھ کر ہیں۔ لیکن اگر کم سے کم ان کی طاقت کو ہم دو گنا بھی فرض کر لیں تو اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ غیر احمدیوں کی طاقت ہم سے پانچ ہزار گنا زیادہ ہے یعنی ہماری جماعت اگر تبلیغی مشنوں پر پانچ لاکھ روپیہ خرچ کرتی ہے تو مسلمانوں کو اڑھائی ارب روپیہ خرچ کرنا چاہیے۔ گویا مسلمانوں کی ہمارے مقابلہ میں اگر محض دُگنی طاقت ہو جو کسی صورت میں بھی درست نہیں ان کا مال اور ان کی دولت یقیناً بہت زیادہ ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بھی بعض ایسے مسلمان تاجر موجود ہیں جوا کیلے اکیلے ہماری جماعت کی تمام جائیداد خرید سکتے ہیں۔ پس دراصل تو ان کی مالی طاقت فرد فرد کی نسبت سے ہم سے کئی گنا زیادہ ہے۔ لیکن اگر دگنی بھی فرض کی جائے تب بھی اڑھائی ارب روپیہ سالا نہ انہیں تبلیغ کے لیے خرچ کرنا و اڑھائی لاکھ بھی خرچ نہیں کرتے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ الہ کی نے تمہیں خلافت کی نعمت عطا کی ہے جس سے وہ لوگ محروم ہیں ۔ اس خلافت نے تھوڑے سے عطا کی ہے جس سے وہ لوگ ۔ اس خلافت نے تھوڑے احمدیوں کو بھی جمع کر کے انہیں ایسی طاقت بخش دی ہے جو منفردانہ طور پر کبھی حاصل نہیں ہو سکتی ۔ یوں تو ہر جماعت میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور ایسے طاقتور بھی ہوتے ہیں جو اکیلے تمام بوجھ کو اٹھا لیں مگر تمام افراد کو ایک رسی سے باندھ دینا محض مرکز کے ذریعہ ہوتا ہے۔ مرکز کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ کمزور کو گرنے نہیں دیتا اور طاقتور کو اتنا آگے نہیں نکلنے دیتا کہ دوسرے لوگ اُس کے مقابلہ میں اتنا دیتا کے حقیر ہو جائیں ۔ اگر مرکز نہیں ہوگا تو کمزور گرے گا۔ اور اگر مرکز نہیں ہوگا تو طاقتو را تنا آگے نکل جائے گا کہ باقی لوگ سمجھیں گے یہ آسمان پر ہے اور ہم زمین پر ہیں ، ہمارا اور اس کا آپس میں واسطہ ہی کیا ہے۔ لیکن نظام اسلامی میں آ کر وہ ایسے برابر ہو جاتے ہیں کہ بعض مواقع پر امیر اور غریب میں کوئی فرق ہی نہیں رہتا۔ مثلاً ہماری مجلس شورای ہے۔ اس میں ہماری جماعت کا چوٹی سے چوٹی کا عالم بھی ہوتا ہے، بڑی سے بڑی دنیوی پوزیشن کا آدمی بھی ہوتا ہے اور ایک غریب سے غریب آدمی بھی ہوتا ہے جس کے بدن پر پورے کپڑے بھی نہیں ہوتے۔ اور ہم نے بسا اوقات دیکھا ہے کہ بڑی بڑی