خطبات محمود (جلد 32) — Page 272
1951ء 272 خطبات محمود جب قرآن کریم میں اشارہ اور حدیث میں وضاحتاً بتایا گیا ہے کہ نماز کا وقت اُس وقت سے ہی شروع ہو جاتا ہے جب اذان ہوتی ہے یا خطبہ شروع ہوتا ہے اور اُس وقت تک ممتد چلا جاتا ہے جب امام سلام پھیرتا ہے 2 اور اس عرصہ میں اُس ساعت کو پانا کار دارد ہے۔ نہیں بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ آسان کام بتایا گیا ہے۔ ایک گھنٹہ یا دو گھنٹہ کا وقت مقرر کر دیا گیا ہے جس میں خدا تعالیٰ مومن کی دعاؤں کو سنتا ہے لیکن درحقیقت یہ آسان کام نہیں ۔ جب ؟ ہمیں پتا ہی کہ تیں، چالیس، پچاس یا ساٹھ منٹ میں سے کونسا منٹ قبولیت کا ہے تو ہم اس ساعت کو اسی طرح پاسکتے ہیں کہ ہم اس تمام وقت میں اپنی توجہ خدا تعالیٰ کی طرف رکھیں اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کو قائم رکھنا مشق اور محنت چاہتا ہے۔ بلکہ اگر کسی کو کہا جائے کہ تم اپنی توجہ خدا تعالیٰ کی طرف قائم رکھو تو بسا اوقات اُس کے لیے توجہ قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پس یہ کام آسان نہیں اس لحاظ سے کہ توجہ قائم رکھنا مشکل ہے۔ اور آسان اس لیے ہے کہ ہر ہفتہ میں مومن کو چند منٹ ایسے مل جاتے ہیں کہ اُسے موقع ملتا ہے کہ وہ اگر خدا تعالیٰ سے اپنی بات منوانا چاہے تو منوا سکتا ہے۔ پس آپ میں سے ہر ایک کو اس ساعت کے پانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہر ایک شخص کی کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے، ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ذاتی غرض اور ضرورت نہ ہو تو قومی اور مذہبی اغراض اور ضروریات ہوتی ہیں۔ ان کے پورا ہونے کے لیے انسان دعائیں کرتا ہے۔ بہر حال یہ موقع ہے کہ اگر ہزار آدمی کوشش کریں تو کیا بعید ہے کہ ان میں سے بعض کو وہ ساعت مل جائے جس میں دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ ( غیر مطبوعہ مواد از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ ) 1 : صحیح بخاری کتاب الجمعة باب الساعة التي في يوم الجمعة 2 : صحيح بخاری کتاب الاذان باب مَا لَمْ يَرَ الْوُضُوءُ إِلَّا من المَخْرَجَيْنِ مِنَ الْقُبُلِ والدُّبُرِ و باب مَنْ جَلَسَ من المَسْجِد يَنتَظِرُ الصَّلَاةَ وَفَضْلِ الْمَسَاجِدِ