خطبات محمود (جلد 32) — Page 234
1951ء 234 خطبات محمود اور غریب بھی سب لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق تحریک جدید کے دوسرے دور میں شریک ہوں ۔ دوسری مثال اسی قسم کے معاہدہ کی قرآن کریم میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَوَعَدْنَا مُوسَى ثَلْثِينَ لَيْلَةً وَاَتْمَمْنْهَا بِعَشْدٍ - 10- ہم نے موسی سے تمیں راتوں کا وعدہ کیا تھا مگر پھر ہم نے اس وعدہ کو چالیس راتوں میں بدل دیا۔ آریوں اور عیسائیوں نے اعتراض کیا ہے کہ اسلام کا خدا نعُوذُ بِاللهِ جھوٹا ہے کیونکہ اس نے تمیں کو چالیس کر دیا۔ اگر خدا تمہیں کو چالیس کر سکتا ہے تو میں تین کو دس اور دس کو انیس کیوں نہیں کر سکتا ۔ اگر خدا عالم الغیب ہونے کے باوجود تھیں کو چالیس کر سکتا ہے تو میں جو عالم الغیب نہیں ہوں تو میں اس میعاد کو کیوں نہیں بڑھا سکتا تھا۔ آخر سوچنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ پر کیوں اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اُس نے موسی سے تھیں راتوں کا جو وعدہ کیا تھا اُسے اُس نے چالیس راتوں میں بدل دیا۔ اس لیے کہ تمہیں دن کی عبادت سے چالیس دن کی عبادت زیادہ مبارک ہے۔ اگر موسی کو تیس کی بجائے چالیس دن عبادت کرنے کا موقع مل گیا تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اُس کا احسان ہوا ظلم تو نہ ہوا۔ اسی طرح اگر تمہیں ساری عمر دین کے لیے قربانی کرنے کا موقع مل جاتا ہے تو تمہارے لیے دائمی طور پر خدا تعالیٰ کی برکتوں کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی جو شخص سمجھتا ہے کہ دین کے لیے چندہ دینا اُس کے لیے بوجھ ہے اور وہ انیس سال سے زیادہ یہ قربانی کرنے کی اپنے اندر طاقت نہیں پاتا میں اُسے کہوں گا کہ دین کو بیشک قربانی کی ضرورت ہے، اسلام کو بیشک قربانی کی ضرورت ہے لیکن اگر یہ قربانی تم پر بوجھ ہے تو تم پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ تم ایک پیسہ بھی اسلام کی خدمت کے لیے دو۔ تمہارا پیسہ ہمارے لیے گندا اور ناپاک ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ تمہارے پیسوں کے ساتھ ہم اسلام کے پاک اموال کو بھی ملوث کر دیں۔ یہ تحریک صرف اسی شخص کے لیے ہے جو خدا تعالیٰ کے دین کے لیے قربانی کرنا اپنے لیے برکت اور فضل اور احسان سمجھتا ہے۔ جو سب کچھ دینے کے باوجود یہ یقین رکھتا ہے کہ اُس نے خدا اور اُس کے دین پر احسان نہیں کیا بلکہ خدا نے اُس پر احسان کیا ہے کہ اُس نے اُسے خدمت کی توفیق دی ۔ پس ہر وہ شخص جو کہتا ہے کہ اس تحریک میں شمولیت اُس کے لیے بوجھ ہے میں اسے کہتا ہوں کہ تم چپ رہو۔ جب تک تمہارا خدا تمہارے ایمان کو درست نہ کر دے اُس وقت تک تم ایک پائی بھی چندہ مت دو اور پھر دیکھو کہ خدا اس سلسلہ کے ساتھ