خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 222

خطبات محمود اور خدا تعالیٰ اُس سے خفا ہے۔ 222 1951ء ایک اور بات میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس تحریک کے متعلق دوستوں کے دلوں میں جو غلط فہمی پائی جاتی ہے خواہ اس غلط نہی کے پیدا کرنے کا موجب میرے اپنے ہی اقوال کیوں نہ ہوں اُسے دور کر دینا چاہیے۔ غلطی بہر حال غلطی ہے اور اُس کا ازالہ ضروری ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگوں کے دلوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ یہ تحریک صرف چند سالوں کے لیے جاری کی گئی تھی مگر ب اس کو ممتد کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال بھی میں نے اس طرف اشارہ کیا تھا جس پر بعض سمجھ گئے، بعض ادھورا سمجھے اور بعض اب تک بھی نہیں سمجھے۔ میں نے جب یہ تحریک جاری کی تھی تو تین سال کے لیے جاری کی تھی۔ پھر میں نے اس تحریک کو دس سال تک بڑھا دیا اور پھر اسے انیس سال تک ممتد کر دیا۔ بعض ایسے تھے جنہوں نے تین سال کے اختتام پر اس تحریک میں حصہ لینا چھوڑ دیا اور انہوں نے کہا کہ بس ! ہم سے اتنے عرصہ کے لیے ہی قربانی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اب ہم زیادہ قربانی نہیں کر سکتے ۔ بعض ایسے تھے جنہوں نے دس سال تک چندہ دیا اور کہا کہ اب ہم اس سے آگے جانے کے لیے تیار نہیں کیونکہ آپ نے دس سال تک اس تحریک کو بڑھایا تھا۔ اس کے بعد جب یہ تحریک انیس سال تک ممتد کر دی گئی تو گو ایسے لوگ بھی ہیں جو میرے خطبات اور اعلانات کو سن کر حقیقت کو سمجھ چکے ہیں۔ مگر اب بھی بعض لوگ ایسے ہیں جنہوں نے میرے مفہوم کو ادھورا سمجھا ہے اور انہوں نے مجھے لکھا ہے کہ آپ کے اعلانات سے پتا لگتا ہے کہ انیس سال کے بعد یہ قربانی ختم ہو جائے گی مگر ہم تو ہر وقت قربانی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آپ جب تک قربانی کے لیے بلاتے رہیں گے ہم اس پر لبیک کہتے چلے جائیں گے۔ اب یہ فقرہ بظاہر تو بڑے اخلاص والا معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقتا اس میں بھی کمزوری پائی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ دین کی خدمت میں میرے بلانے کا کیا سوال ہے؟ فرض کرو دنیا میں ایک ہی مسلمان رہ جائے تو کیا وہ ایک مسلمان دین کی خدمت کو چھوڑ دے گا اس لیے کہ اسے بلانے والا کوئی نہیں؟ جہاں عشق ہوتا ہے وہاں تو بلانے اور نہ بلانے کا سوال ہی نہیں ہوتا۔ لوگوں نے لطیفہ بنایا ہوا ہے کہ ایک چھوٹا سا جانور ہے جو رات کو الٹا سوتا ہے۔ کسی نے اُس سے پوچھا کہ تو رات کو ٹانگیں اوپر کی طرف اُٹھا کر کیوں سوتا ہے؟ اُس نے کہا دیکھو ساری دنیا رات کو سو جاتی ہے اور غافل ہو جاتی ہے اگر آسمان رات کو گر پڑے تو سارے کے سارے تباہ ہو جائیں۔