خطبات محمود (جلد 32) — Page 199
1951ء 199 خطبات محمود کہ جب اذان کے باقی کلمات دہرائے جاتے ہیں تو ان الفاظ کو بھی دہرا لینا چاہیے۔ لیکن اگر ہم ان کلمات کے معنوں پر غور کریں تو بات وہی صحیح معلوم ہوتی ہے جو احادیث میں مروی ہے کہ ان کلمات کی بجائے لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ پڑھنا چاہیے ۔ مؤذن زور سے کہہ رہا ہوتا ہے حَيَّ عَلَی الصَّلوةِ حَيَّ عَلَى الْفَلاح اے لوگو! جلدی توجہ اور تعہد کے ساتھ نماز کی طرف آؤ۔ اے لوگو! جلدی آؤ۔ توجہ کے اور تعہد کے ساتھ فلاح کی طرف آؤ۔ اور ہم ان کلمات کو دل میں کہتے ہیں۔ اب مؤذن کی آواز چونکہ بلند ہوتی ہے اس لیے لوگ اُس کی آواز کو سنتے ہیں اور اُس پر عمل کرتے ہوئے مسجد میں آ جاتے ہیں۔ لیکن اگر ہم دل میں ان کلمات کو دہرائیں تو انہیں کون سنتا ہے اور کون ان پر عمل کرتا ہے؟ پس اس میں کوئی معقولیت معلوم نہیں ہوتی ۔ موذن جب اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ اَكْبَرُ کہتا ہے تو سننے والا ان الفاظ کو دل میں دہراتا ہے اور کہتا ہے مؤذن نے جو کچھ کہا ہے ٹھیک کہا ہے۔ میری ذات بھی خدا تعالیٰ کی تکبیر پر ایمان لاتی ہے۔ مؤذن جب کہتا ہے اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ تو سننے والا بھی اس کلمہ کو دل میں دہراتا ہے اور کہتا ہے مؤذن ٹھیک کہتا ہے میں بھی خدا تعالیٰ کی توحید پر ایمان لاتا ہوں ۔ مؤذن جب أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ کہتا ہے تو سننے والا اپنے دل میں اس کلمہ کو دہراتا ہے اور کہتا ہے مؤذن ٹھیک کہتا ہے میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لاتا ہوں ۔ لیکن جب مَوَزّن حَيَّ عَلَى الصَّلوة کہتا ہے تو اس کی بات معقول نظر آتی ہے کہ وہ مینار پر کھڑا بلند آواز سے کہہ رہا ہے کہ اے لوگو! سرعت ، توجہ اور تعہد کے ساتھ نماز کے لیے مسجد میں آؤ اور بسا اوقات سننے والا اس آواز کو سن کر مسجد میں آ جاتا ہے۔ لیکن اگر میں اس کلمہ کو دل میں دہراتا ہوں تو اس میں کوئی معقولیت نظر نہیں آتی ۔ میری آواز کون سنتا ہے اور کون اس آواز پر عمل کرتا ہے۔ جہاں تک فرد کا سوال ہے مؤذن اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ کہتا ہے تو میں بھی کہتا ہوں اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ وہ جب اَشْهَدُ اَنْ لَّا إلهَ إِلَّا الله کہتا ہے تو میں بھی کہتا ہوں اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ جب وہ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ کہتا ہے تو میں بھی کہتا ہوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ گویا جہاں تک انسانی نفس کا سوال ہے جب مؤذن اذان کے کلمات کہتا ہے تو ہر سننے والا وہ کلمات دل میں دہراسکتا ہے۔ آہستہ آہستہ بھی اور وراء الورا یعنی شعور کے طور پر بھی۔ لیکن جس بات کا تعلق دوسرے لوگوں سے ہے اس کو اپنے دل میں کہنا اپنے اندر کوئی معقولیت نہیں رکھتا۔ مثلاً ایک شخص