خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 163

1951ء 163 خطبات محمود اور اس کی حقیقت کو کس طرح پالیا۔ بعض لوگوں نے کہا ہے چونکہ ذرہ کو توڑ کر اس سے طاقت حاصل کرنے کا طریق نکل آیا ہے ا اور اس بات کا زبردست امکان پیدا ہو گیا ہے کہ ذرہ کو توڑنے سے اتنی طاقت پیدا ہو جائے گی کہ وہ آگے دوسرے ذرہ کو توڑے گا ، پھر وہ تیسرے کو توڑے گا ، پھر چوتھے کو توڑے گا۔ اس طرح قیامت کا گا، گا، ایک ذریعہ نکل آیا ہے۔ لیکن 1945 ء میں پہلا ایٹم بم چلایا گیا تھا ایجاد وہ اس سے بہت دیر پہلے کا ہو چکا تھا۔ اب 1951 ء آ گیا ہے۔ گویا چھ سال گزرنے کے بعد بھی راز قدرت ویسے کا ویسا ہے اور اس عرصہ میں انسان قیامت برپا نہیں کر سکا ہے۔ راز قدرت کو معلوم تو سبھی کیا جا سکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ ذرہ کی حقیقت کیا ہے۔ لیکن ہوا یہ ہے کہ بعض اور باتیں پیدا ہو گئی ہیں جن کا پہلے انسان کو وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ اب جب وہ سامنے آگئی ہیں تو انسان حیران ہو گیا ہے کہ یہ کس طرح ہے؟ ہمارے ایک نوجوان ابھی ابھی تعلیم حاصل کر کے انگلستان سے واپس آئے ہیں۔ انہوں نے وہاں ایسی عزت حاصل کی ہے کہ امریکہ نے بھی انہیں بلایا اور وہاں انہیں تین مہینوں تک بڑے بڑے پروفیسروں کے ساتھ رکھا گیا ۔ وہ ایٹم سے متعلق ایک مسئلہ کی تحقیقات کر کے آئے ہیں۔ میں اعداد گنجی کے اعداد نے ان سے اس بارہ میں بات : بات چیت کی تو انہوں نے بتایا کہ قانون قدرت میں بعض اعداد بھی کے اء معلوم ہوئے ہیں اور بعض تابع اعداد ہیں ۔ جب انسانی عقل اس عدد پر پہنچ جاتی ہے یا کوئی طاقت اس عدد کو پہنچ جاتی ہے تو وہ کنجی والی طاقتیں اپنے اندر پیدا کر لیتی ہے اور جب وہ اس کنجی والے عدد سے آگے یا پیچھے ہٹ جاتی ہے تو کنجی والی طاقتیں اس سے جاتی رہتی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے بتایا کہ چار کا عدد کنجی والا عدد ہے۔ میں نے سوچا کہ میرے زمانہ میں منجم اور اس قسم کے دوسرے لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ سات کے عدد میں یہ برکت ہے، دس کے عدد میں یہ برکت ہے، انیس کے عدد میں یہ برکت ہے۔ اب سائنس بھی انہی اعداد پر آ رہی ہے۔ ہمارے اس نوجوان نے بتایا کہ اب تحقیقات مکمل ہو رہی ہیں اور زائد باتیں بھی معلوم ہو رہی ہیں۔ میں نے کہا تم یہ تو بتاؤ کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ چار کا عدد کنجی والا عدد ہے ، ہے یا کوئی اور عدد کنجی والا ہے؟ میں نے کہا یہ تو ایک اتفاقی امر ہے۔ جب آپ نے کسی عدد میں کوئی طاقت دیکھی تو لکھ لیا۔ راز قدرت تو تب معلوم ہو جب یہ معلوم ہو کہ چار کے عدد میں یہ طاقت کیوں پیدا ہوئی ہے؟ یہ تین اور پانچ کے اعداد میں کیوں پیدا نہیں ہوئی؟ انہوں نے بتایا