خطبات محمود (جلد 32) — Page 91
1951ء 91 خطبات محمود مؤذن حضرت بلال تھے جو حبشی تھے اور حبشی لوگ ”ش“ نہیں بول سکتے ۔ حبشیوں کے بعض قبائل ”ش“ کو ”س“ کہتے ہیں ۔ اس لیے حضرت بلال جب اذان دیتے تو اَشْهَدُ کی بجائے اَسْهَدُ کہہ دیتے 12 لیکن اس نقص کے باوجو د رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو مؤذن مقرر کیا ہوا تھا۔ اُن کا اَشْهَدُ کی بجائے اسهَدُ کہنا کسی جہالت یا بناوٹ کی وجہ سے نہیں تھا اور نہ یہ ان کی سستی اور غفلت یا دین سے لا پرواہی کی وجہ سے تھا بلکہ اُن کا یہ نقص پیدائشی تھا۔ بعض ممالک کی آب و ہوا کی وجہ سے وہاں کے باشندوں کے گلے ایسے ہوتے ہیں جو ”ش“ نہیں بول سکتے ۔ ایک دفعہ جب بعض لوگ حضرت بلال کی اذان پر ہنسے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال جب اذان دیتا ہے تو بعض لوگ ہنستے ہیں لیکن خدا تعالیٰ بلال کی اذان سن کر عرش پر خوش ہوتا ہے۔ 2 آپ نے یہ اسی لیے فرمایا کہ حضرت بلال کا اَشْهَدُ کو اسهَدُ کہنا جان بوجھ کر دین سے لاپر واہی اور جہالت کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ خدا تعالیٰ نے اُن کا گلا ہی ایسا بنایا تھا۔ اگر کسی لڑائی کے موقع پر لوگ بھاگ بھاگ کر میدانِ جنگ کی طرف جائیں لیکن ایک تندرست آدمی جو دوڑ میں اول ، دوم یا سوم رہتا وہ لنگڑا کر چلنا شروع کر دے تو ایسا شخص لعنتی ہوگا۔ لیکن اگر ایک لنگڑا شخص کو دگو دکر جائے تو اُس کا یہ فعل خدا تعالیٰ کے قرب کا موجب ہوگا۔ وہ اپنی معذوری کی وجہ سے اگر لڑائی میں نہ جا تا تب بھی کوئی حرج نہ تھا لیکن باوجود معذور ہونے کے وہ حفاظت دین کے لیے اپنا کوئی عذر پیش نہیں کرتا۔ پس اُس کا یہ فعل خدا تعالیٰ کے قرب کا موجب ہوگا۔ لیکن جب ایک تندرست آدمی لڑائی کا موقع آنے پر لنگڑا لنگڑا کر چلے تو اُس کا یہ فعل خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہوگا۔ اس لیے کہ وقت پر اس نے غذر اور بہانے تلاش کر کے لڑائی سے بچنا چاہا۔ یہ ہے وہ میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ پنجابیوں کے گلے خدا تعالیٰ نے ایسے بنائے ہیں کہ وہ ہر زبان کو صحیح ادا کر سکتے ہیں۔ اور اگر کوئی نقص ہوتا ہے تو وہ بہت معمولی ہوتا ہے۔ ابھی ایک نوجوان نے اذان دی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہے۔ اُس نے اذان دیتے وقت صلوۃ کو صلاۃ اور فلاح کو فلاح کہا ہے۔ یہ ایسی غلطیاں نہیں کہ انہیں کوئی پنجابی دور نہ کر سکے ۔ یہ بظاہر معمولی بات ہے لیکن معمولی معمولی باتوں کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان بڑھتے بڑھتے یہ کہنے لگ جاتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو پرمیشر کہہ لیا تو کیا ہوا یا مسجد کی بجائے مندر یا گرجا میں چلے گئے تو کیا ہوا۔ اور یہ بہت