خطبات محمود (جلد 31) — Page 91
خطبات محمود 91 1950ء جب وہ کسی سے ڈرتا ہو۔ جب وہ خدا تعالیٰ کا ہتھیار ہے تو پھر ڈرے کیوں ۔ وہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے تو اُسے پھینک دے اور چاہے تو اُسے رکھ لے۔ اُس کی مرضی اپنی مرضی نہیں ۔ دنیا میں جب تم چھری کانٹے یا چمچہ کے ساتھ کھانا کھاتے ہو تو یہ تمہارے اختیار میں ہوتا ہے کہ خواہ تم اس چھری کانٹے یا چے کو پھینک دو یا اُسے ہاتھ میں رکھو۔ چھری کانٹایا چہ کی اگر زبان ہو تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے تم نے منہ سے لگایا تھا پھر پرے کیوں پھینک دیا۔ اسی طرح جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتا ہے اُس کی بھی یہی حالت ہوتی ہے۔ چاہے تو خدا تعالیٰ اُسے پھینک دے اور چاہے تو رکھ لے۔ خدا تعالیٰ اسے پھینک دیتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اُس کے خدا کی خوشی اسی میں ہے۔ اور وہ اُس کے پکڑنے میں بھی خوش ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کے خدا کی خوشی اسی میں ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے ہی بات کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو جو بھی اکثریت کے پیچھے رہے گا خدا تعالیٰ اُس کے ساتھ نہیں رہے گا ۔ وہ اِدھر اُدھر پھرتا رہے گا اور انجام کار اُسے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا ۔ خدا تعالیٰ اُسے کہے گا تم نے اکثریت کو خدا بنا لیا تھا اس لئے جاؤ اب الفضل مورخہ 17 مئی 1961 ء ) میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں ۔“ 117 :1: الانعام 2: الاخلاص : 4 3 ردوکد: ( رد و قدح ) حجت - بحث تکرار