خطبات محمود (جلد 31) — Page 89
1950ء 89 خطبات محمود سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک سب نبیوں کے سامنے یہ مقام رکھا گیا ہے۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے باقی تمام ادوار کے سامنے بھی یہ مقام رکھا جائے گا لیکن اکثریت کا نیک ہونا مشکل امر ہے۔ ایسا تو ہو سکتا ہے کہ کسی نبی کے زمانہ میں ایک علاقہ یا ایک ملک کی اکثریت نیک ہو چکی ہو لیکن دنیا کی اکثریت کو کسی نبی کی جماعت بھی نیک نہیں بنا سکی۔ جس نبی کی جماعت نے بھی یہ مقام حاصل کر لیا کہ اُس نے اکثریت کو نیک بنالیا وہ نہایت شاندار اور بے مثال ہوگی ۔ بہر حال یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ مومن ڈرنا نہیں جانتے ۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم نے سچائی کو قبول کیا ہے اس لئے ہمیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ بے شک جب وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سچائی کو قبول کیا ہے تو لوگ اُن کی ہر طرح مخالفت کرتے ہیں لیکن مومن ان باتوں سے گھبراتے نہیں بلکہ دلیری سے اپنی باتوں پر قائم رہتے ہیں۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایرانی بادشاہ نے بعض مسلمان افسروں کو ملاقات کے لئے بلایا۔ جب وہ وہاں گئے تو کسی نے بتایا کہ یہاں یہ دستور ہے کہ جوتیاں اُتار کر چلتے ہیں اور ہتھیار باہر رکھ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہاں یہ دستور ہے تو پھر اپنے انہ ملک کے لوگوں کو یہاں بلاؤ ہم تو اس پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ بعض لوگوں نے رئیس الوفد سے پرعمل لئے تیار کہا بھی کہ وہ اپنی ضد چھوڑ دیں لیکن وہ نہ مانے اور کہا ہم تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی اسی طرح چلے جاتے تھے۔ بادشاہ مجبور تھا اُس نے بلا لیا اور وہ اندر چلے گئے ۔ فرش پر دارا کے وقت کے قیمتی قالین بچھے ہوئے تھے وہ اُس پر نیزہ ہاتھ میں لئے مٹی اور کیچڑ سے بھری ہوئی جو تیوں کے ساتھ چلے گئے اور وہاں بیٹھ گئے ۔ بعض لوگوں نے انہیں ٹو کا بھی کہ بادشاہ کے سامنے تمہیں کھڑا ہونا چاہیے مگر انہوں نے کہا یہ ضروری نہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک حد تک دوسروں کا لحاظ ضروری ہوتا ہے مگر لحاظ اور ہوتا ہے اور نقل اور ہوتی ہے۔ لحاظ بطور احسان ہوتا ہے اور محسن اور نقال میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حدیبیہ کے موقع پر مشرکین کی طرف سے ایک جرنیل آیا۔ آپ نے فرمایا اُس کے دل پر انیوں کا بہت اثر ہوتا ہے چنانچہ آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اپنی قربانیاں باہر نکال کر کھڑی کر دیں۔ وہ جرنیل آیا۔ اُس نے جب یہ دیکھا کہ ہزاروں جانور وہاں کھڑے ہیں تو دریافت کیا کہ یہ کس لئے ہیں ۔ اُسے بتایا گیا کہ یہ لوگ عمرہ کرنے آئے ہیں اور یہ جانور قربانی کے لئے ساتھ لائے ہیں۔