خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 71

1950ء 71 خطبات محمود کے لوگوں کو احمدیت کی طرف متوجہ کرنا بہت بڑا کام ہے اور اس کی اہمیت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ مگر اس کے مقابلہ میں ہماری قربانیاں کچھ بھی نہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو لوگ تبلیغ کرتے ہی نہیں اور جو تبلیغ کرتے ہیں وہ مجنونانہ رنگ میں نہیں کرتے۔ یہی علاقہ جس کے متعلق میں نے کہا تھا کہ بہت چھوٹا سا ہے اگر تم کوشش کروہ تبلیغ کرو اور ہمدردی کے جذبات لے کر لوگوں کے پاس جاؤ تو یہ سارا علاقہ احمدی ہو سکتا ہے۔ اس بات پر تین سال گزر گئے ہیں لیکن اس کام کو کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ بے شک کتے بھونکتے رہیں گے اور قافلہ چلتا رہے گا ۔ کیا تم اُن لوگوں کی باتوں سے ڈر جاؤ گے جو جھوٹ بول کر تمہارے خلاف افسروں کو بہکاتے ہیں؟ کیا خدا تعالیٰ کی صداقت تمہاری نظروں میں چھوٹی ہے اور جھوٹوں کا جھوٹ بڑا ہے؟ کیا اس حقیقت سے کوئی انکار کر سکتا ہے کہ یہ علاقہ چھوٹا سا ہے؟ یا کیا کوئی اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے کہ ہمدردی کا جذبہ اگر ہو تو یہ سارا علاقہ احمدی ہو سکتا ہے؟ لیکن واقع یہ ہے کہ جماعت کے ہر فرد میں احساس نہیں کہ وہ اپنا رستہ چھوڑ کر تبلیغ کرے۔ بہت سے لوگ صرف سلام کہنے کو ہی تبلیغ سمجھ لیتے ہیں۔ کسی کو سلام کہہ دیا اور کہہ دیا کہ ہماری فلاں میٹنگ میں تشریف لانا اور اُس نے وعدہ کر لیا تو خوشی سے گھر چلے گئے اور سمجھ لیا کہ ہم نے بڑی تبلیغ کی ہے۔ یا کسی سے گئے اورسمجھ لیا ہم نے ۔ گئے اورسمجھ ہم چند باتیں کیں اور اُس نے ہاں میں ہاں ملا دی تو سمجھ لیا کہ لوگ احمدیت کی طرف توجہ کر رہے ہیں۔ لیکن یہ تبلیغ نہیں۔ تبلیغ یہ ہے کہ حق کو دوسروں پر کھولا جائے اور انہیں دعوت دی جائے کہ وہ اُس کو قبول کریں۔ یہ امر ظاہر ہے کہ جب کبھی بھی کسی مامور کی جماعت کو خدا تعالیٰ غلبہ دیا کرتا ہے تو پہلے وہ افراد پیدا کیا کرتا ہے پھر غلبہ دیا کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی ایسا ہوا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی ایسا ہوا ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوا اور اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ یہ کبھی نہیں ہوگا کہ خدا تعالی لاکھ دولاکھ افراد کو دنیا پر غالب کر دے۔ وہ پہلے لاکھ دولاکھ کو دس ہیں کروڑ بنائے گا اور پھر انہیں غلبہ بخشے گا۔ اور یا اگر ہمیں خدا تعالیٰ نے فردی طور پر ترقی دی تو پھر کسی ایسے ملک میں جس کی آبادی پانچ چھ لاکھ کی ہو دو تین لاکھ آدمی اس جماعت میں داخل کرے گا اور اُس جگہ پر احمدیت کو غلبہ عطا کرے گا۔ اور پھر ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے ملک پر غلبہ عطا کرتا جائے گا۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالی افراد میں کثرت کے بغیر کسی جماعت کو پہلا غلبہ عطا کرے۔ اگر ہمارے پاس افراد کی زیادتی نہیں تو ہم دنیا میں صحیح جمہوریت کو قائم نہیں کر سکتے ۔