خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 243

1950ء 243 خطبات محمود پھر نمازوں کو دیکھ لو جب قائم ہوئی تو یہ دو رکعت تھی ، پھر چار رکعت ہو گئی۔ جس کو تم قصر کہتے ہو وہ قصر نہیں وہ اصل ہے۔ صرف عام نماز دگنی ہوگئی ہے۔ گویا سفر میں آدھی نماز نہیں ساری ہے۔ حضر میں وہ دگنی ہو گئی ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں لوگ کہتے ہیں نماز قصر ہوگئی وہ قصر نہیں ہوئی بات یہ ہے کہ حضر میں نماز دگنی ہو گئی ہے ۔ 5 خدا تعالیٰ نے کہا تھا یہ زیادتی تمہارے ایمانوں کو قائم رکھنے کے لئے ہے۔ میں نے بھی تمہارے ایمانوں کو بچانے کے لئے قدم بقدم کام لیا ہے ۔ اگر خدا تعالیٰ کا نماز کو دو رکعت سے چار رکعت کرنا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ کا ایک دھیلا فی سہ ماہی سے آمد کا دس فیصدی چندہ کر دینا دھوکا نہیں اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلا کو آئندہ ترقیات کا علم نہیں تھا تو میرا دس سال سے اُنیس سال کرنا دھوکا کیسے ہوا۔ اگر یہ دھوکا ہے تو خدا تعالیٰ کا دورکعت نماز کو چار رکعت کرنا بھی نعوذ باللہ دھوکا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک دھیلا فی سہ ماہی چندہ کو آمد کا 1/10 کرنا بھی نعوذ باللہ دھوکا ہے۔ اور اگر ایسا نہیں تو پھر میرا طریق بھی تمہارے ایمانوں کو قائم رکھنے کے لئے ہے۔ پھر یہ دھوکا اُس وقت بنتا جب یہ کام مفید نہ ہوتا یا کام دس سال میں پورا ہو جاتا۔ مگر کیا تم اتنے ہی بے وقوف ہو کہ تم سمجھ رہے ہو کہ دنیا دس سال میں فتح ہو جائے گی ؟ یا دنیا ے ہو کہ تم ہو دنیا انیس سال میں فتح ہو جائے گی ؟ تمہیں تو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ خدا تعالیٰ تمہیں قدم بقدم ایمان کی طرف لے جا رہا ہے۔ دس اور اُنیس سال کا یہاں سوال نہیں ۔ کیا تم نے بیعت کرتے وقت یہ وعدہ کیا تھا کہ میں دس سال تک قربانی کروں گا ؟ تمہیں ٹھوکر لگی تھی تو اس بات پر لگنی چاہیے تھی کہ میں نے دس سال یا اُنیس سال کیوں کہے ہیں ۔ تم پوچھتے حضور ! ہم نے قربانی کا وعدہ تو بیعت کرتے وقت موت تک کیا تھا اور آپ دس سال یا انیس سال تک ہمیں لے جا کر چھوڑ رہے ہیں ۔ پس دیانتداری کا یہ طریق تھا کہ تم پوچھتے کہ ہمیں اُنیس سال کے بعد کیوں چھوڑ دیں گے؟ کیا اُنیس سال کے بعد نمازیں اور روزے ر معاف ہو جائیں گے؟ کیا اُنیس سال کے بعد تم بیوی بچوں کی پرورش چھوڑ دو گے؟ کیا اُنیس سال کے بعد تم کھانا کھانا چھوڑ دو گے؟ اگر اُنیس سال کے بعد تم نمازیں اور روزے چھوڑ نہیں دو گے، اگر انیس سال کے بعد تم بیوی بچوں کی پرورش چھوڑ نہیں دو گے، اگر اُنیس سال کے بعد تم کھانا کھانا چھوڑ نہیں دو گے تو پھر اسلام کو یہ کہتے ہوئے کیوں چھوڑ دو گے کہ وہ ترقی کرے یا نہ کرے ہم نے تو اُنیس سال چندہ دے دیا۔ یہ تو پاگلوں والا خیال ہے کہ دس سال سے اُنیس سال تک تحریک کیوں بڑھادی گئی۔ سوال یہ