خطبات محمود (جلد 31) — Page 237
1950ء 237 خطبات محمود قرآن کریم کہتا ہے يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ 1 کہ افسوس بنی نوع انسان پر کہ کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ میں نے کوئی رسول ان کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا ہو اور انہوں نے اس سے ٹھٹھا نہ کیا ہو۔ اگر لوگ دشمنی کرتے ہیں تو ان کی دشمنی کی حد بندی کرنا ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اتنی مخالفت کرو آگے نہ کرو۔ یہ دشمن کا کام ہے کہ وہ اپنی دشمنی کی حد بندی کرے یا نہ کرے۔ یہ جاہل کا کام ہے کہ وہ لڑائی کرنے پر مجبور ہوتا ہے تو سمجھتا ہے کہ لڑائی یہاں تک ہو گی آگے ختم ہو جائے گی ۔ ہمارے ملک میں ایک پاگل ڈپٹی کمشنر آیا تھا اُس کا ایک بیرا تھا وہ بیرا ایک معزز اور غیرت مند خاندان سے تھا۔ غربت کی وجہ سے اُس نے بیرا کا کام شروع کر دیا تھا۔ ایک دن ڈپٹی کمشنر کو اُس پر غصہ آیا اور اُس نے اُسے کہا سو ر۔ بیرا نے کہا تو سورہ تمہارا باپ سؤر۔ ڈپٹی کمشنر کو یہ امید نہ تھی کہ وہ بیرا ہو کر ایسا کہے گا۔ وہ پاگل تھا لیکن اس کا دماغ منطقی تھا۔ اس نے کہا بس بس آگے نہیں ۔ میں نے تم کو سؤر کہا ہے تمہارے باپ کو سور نہیں کہا۔ اس لئے تم مجھے گالی دے لولیکن میرے باپ کو کچھ نہ کہو۔ یہ بیشک ایک مجنون کا فعل تھا لیکن سوال یہ ہے کہ جب لڑائیاں شروع ہو جائیں تو اُن کی حد بندی کیوں؟ دشمن کبھی دس تک پہنچے گا، کبھی میں تک پہنچے گا، کبھی تھیں تک پہنچے گا۔ وہ قوم جاہل ہے جو دشمنوں سے گھری ہوئی ہو اور پھر لڑائی کو محدود تصور کرے کہ فلاں تک دشمنی ہو گی آگے ختم ہو جائے گی۔ دنیا کی مثالوں کو دیکھ لو کہ دشمنیاں کہاں تک گئی ہیں ۔ یہ بھی ہوا ہے کہ کسی نے مار پیٹ کو چھوڑ دیا یہ بھی ہوا کہ کسی نے ٹوٹ کر چھوڑ دیا۔ یہ بھی ہوا ہے کہ کسی نے کسی فرد کو قتل کر کے لڑائی ترک کر دی۔ اور یہ بھی ہوا ہے کہ اسے ملک سے نکال دیا۔ اگر کسی شخص کا یہ مقصد ہے کہ وہ سچائی کے پیچھے ہے اور وہ کہے کہ اچھا ہم مر جائیں گے لیکن اسے چھوڑیں گے نہیں اور وہ مر جاتا ہے تو وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔لیکن اگر اس نے سچائی کا صرف ساتھ نہیں دینا بلکہ اسے دنیا میں قائم کرنا ہے تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم مرجائیں گے لیکن سچائی کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ کیونکہ اگر وہ مرجائیں گے تو اُن کا مقصد ختم ہو جائے گا کیونکہ وہ یہ نہیں کہتے کہ ہم سچائی کو نہیں چھوڑیں گے۔ اگر وہ کہتے کہ ہم سچائی کو نہیں چھوڑیں گے تو اُن کا مرنا ہی اُن کی جیت ہوگا۔ لیکن اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم سچائی کو قائم کر کے چھوڑیں گے تو خواہ وہ صداقت کی خاطر مارے جائیں گے وہ ہاریں گے کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ ہم سچائی کو قائم کر کے