خطبات محمود (جلد 31) — Page 221
1950ء 221 خطبات محمود کے لحاظ سے تو جماعت زیادہ نہیں بنتی۔ کیونکہ غریب سے غریب اور نہ کمانے والے کو بھی نکال لیا جائے تو پانچ روپے فی کس اوسط تو ہونی چاہیے۔ یعنی پانچ روپے فی کمانے والے کے لحاظ سے۔ آخر وہ بھی ہیں جو دو دو ہزار چندہ دیتے ہیں ۔ دس لاکھ میں سے دولاکھ ناد ہند سمجھ لو اور دولاکھ غریب اور نہ کمانے والے تب بھی ڈیڑھ لاکھ کمانے والا رہ جاتا ہے۔ اور اس لحاظ سے بھی موجودہ چندہ سے بہت زیادہ چندہ ہونا چاہیے۔ میرے نزدیک تم اگر ہندوستان کے احمدیوں کو بھی گن لو تو تین لاکھ کی تعداد سے زیادہ نیم براعظم ہند میں احمدی نہیں ہیں۔ بیرونی دنیا کے احمدیوں کو ملا کر چار پانچ لاکھ ہوتے ہیں ۔ مگر مبالغہ کی یہ حالت ہے کہ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں ہماری تعداد میں لاکھ ہے۔ اگر میں جماعت کو تعداد بڑھا چڑھا کر بیان کرنے سے نہ روکتا تو غالبا اب تک ہم دو تین کروڑ بن جاتے ۔ لوگ تبلیغ کی بجائے کچھ عرصہ بعد پہلی تعداد میں ایک ہندسہ زائد کر دیتے ہیں اور خوش ہو جاتے ہیں۔ یہ بڑی ہی آسان بات ہے۔ نہ وفات مسیح کا مسئلہ سمجھانا پڑا اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ سمجھانا پڑا صرف ایک کو دو بنادیا یا دس بنا دیا۔ اسی طرح جماعت کو بڑھاتے چلے گئے ۔ جماعت بھی بڑھتی گئی اور تبلیغ کرنے سے بھی بچ گئے ۔ لیکن اگر یہ لوگ یہ غور کر کے کہ اگر اسی طرح تعداد بڑھائی تو غیر احمدی حساب لگا کر اعتراض کریں گے کہ اگر تمہاری یہ تعداد اور یہ چندہ ہے تو پھر تم کونسی بڑی قربانی کر رہے ہو۔ تو یہ لوگ اس طرح تعداد بڑھا چڑھا کر کبھی بیان نہ کرتے ۔ تعداد بڑھا چڑھا کر دکھانے والے کو یہ پتا نہیں لگتا کہ غلط بیانی کر کے میں اپنی جڑیں کاٹ رہا ہوں اور اپنی جماعت کو مردہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ حالانکہ واقع یہ ہے کہ ہماری جماعت بڑی قربانی کر رہی ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ میں آپ لوگوں کی کوتاہیوں کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں۔ لیکن وہ کونسی جماعت ہے جو تمام قسم کے ٹیکس اور سرکاری چندے ادا کرنے کے بعد بھی پانچ سات روپے فی کس چندہ دیتی ہو۔ بلکہ تحریک جدید کے چندوں کو اگر ملا لیا جائے تو آٹھ نو روپے فی کس چندہ بن جاتا ہے ( یا دوسرے معنوں میں تمیں چالیس روپے فی کس کمانے والا) باقی مسلمان پاکستان میں اگر چار کروڑ فرض کئے جائیں تو اس حساب سے ان کا سالانہ چندہ ایک ارب میں کروڑ سے ایک ارب ساٹھ کروڑ تک ہونا چاہئے ۔ یعنی حکومت پاکستان کی مجموعی آمد سے بھی زیادہ۔ اور سارے ہندوستان کے مسلمانوں کو ملا لیا جائے تو ہندوستان کے مسلمانوں کا چندہ تین ارب بیس کروڑ ہونا چاہیے۔ یعنی ہندوستان کی حکومت کی آمد کے برابر لیکن مسلمانوں کی جتنی انجمنیں یا خیراتی ادارے ہیں اُن کی مجموعی آمد تین کروڑ سے کسی صورت میں زیادہ نہیں۔ جس کے