خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 14

1950ء 14 خطبات محمود تیسرے بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی کی اہلیہ پشاور میں فوت ہوگئی ہیں۔ دوستوں کو معلوم ہے کہ بھائی عبدالرحیم صاحب واپس قادیان چلے گئے ہیں چونکہ وہ وہاں کے باشندہ تھے۔ اس جلسہ پر خیال تھا کہ ان کی اہلیہ قادیان جا کر انہیں مل آئیں۔ اور اگر گورنمنٹ اجازت دے تو وہ وہیں رہ جائیں۔ لیکن بیماری کی وجہ سے وہ وہاں نہ جاسکیں ۔ چوتھا جنازہ میں سیدہ کبری بانو شاہ جہاں پور والی کا پڑھاؤں گا جو مولوی سید احمد علی صاحب مبلغ حیدر آباد (سندھ) کی بیوی کی خالہ تھیں۔ ان کے لڑکوں نے جو یا تو خود غیر احمدی ہیں یا ہیں تو احمدی مگر دوسرے لوگوں سے ڈر کر کہ وہ یہ نہ کہیں کہ یہ احمدی ہیں بغیر کسی احمدی کو اطلاع دیئے انہیں دفن کر دیا ہے۔ پانچویں نصر اللہ خان صاحب کنٹرول برانچ سنٹرل آرڈینینس ڈپوراولپنڈی کی والدہ فوت ہوگئی ہیں۔ چھٹے فضل عمر صاحب بہار کی والدہ اور چی فوت ہوگئی ہیں۔ ساتویں سلیمہ صاحبہ گوجرانوالہ سے اطلاع دیتی ہیں کہ ناصرہ فوت ہوگئی ہیں۔ دفتر والوں نے یہ اطلاع نہیں دی کہ یہ کون ہیں ۔ آٹھویں چودھری ظہور احمد صاحب باجوہ جو پہلے انگلستان میں مبلغ تھے اور اب کچھ عرصہ سے دفتر میں بطور اور اسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری کام کر رہے ہیں ان کی نانی فوت ہو گئی ہیں ۔ نویں مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری سابق مبلغ سیرالیون مغربی افریقہ اطلاع دیتے ہیں کہ اُن کی ہمشیرہ سعیدہ بیگم صاحبہ فوت ہو گئی ہیں ۔ دسویں سید رضا حسین صاحب عرائض نویس کلکٹری اٹاوہ اطلاع دیتے ہیں کہ ان کی والدہ فوت ہو گئی ہیں۔ گیارہویں شیخ محمد احمد صاحب کپور تھلوی لائکپو ر کہتے ہیں کہ سید عبدالمجید صاحب کپور تھلوی کی بیٹی فوت ہو گئی ہیں اور تین سال کا ایک بچہ چھوڑا ہے۔ سید عبدالمجید صاحب کی یہ ایک ہی بیٹی تھیں اس لئے ان کی نہ صرف وفات ہی ہوئی ہے بلکہ ایک ہی بیٹی ہونے کی وجہ سے ان کے لئے ایک بڑے صدمہ کا موجب ہوئی ہیں۔ بارہویں منشی محمد اسمعیل صاحب سیالکوٹی جن کا نام میں نے پہلے لینا تھا کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابہ میں سے تھے اور مولوی عبدالکریم صاحب کے پھو پھی زاد بھائی تھے فوت ہو گئے ہیں۔ منشی محمد اسماعیل صاحب نہایت سادہ طبع ، نیک اور صاحب الہام آدمی تھے۔ ان کو کثرت سے الہام ہوتے تھے اور وہ کثرت سے دعائیں کرنے والے انسان تھے۔ نماز تہجد کے اتنے پابند تھے